أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّكَ‌ ۚ لَهٗ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡنَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَيۡنَ ذٰ لِكَ‌ ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا‌ ۞

ترجمہ:

اور ہم (فرشتے) صرف آپ کے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں، ہمارے آگے اور ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے وہ سب اسی کی ملکیت ہے، اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم (فرشتے) صرف آپ کے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں ہمارے آگے اور ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے وہ سب اسی کی ملکیت ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے (مریم :64)

جبریل کے زیادہ نہ آنے کی وجہ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل سے فرمایا کہ آپ ہم سے ملاقات کے لئے جتنی بار آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث، 4731، سنن الترمذی رقم الحدیث :3158، المستدرج ج ٢ ص 611)

امام رازی نے لکھا ہے جب کفار نے آپ سے روح، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کئے اور آپ نے نزول وحی کے اعتماد پر فرما دیا میں کل بتادوں گا اور وحی نازل نہیں ہوئی اس موقع پر آپ نے جبریل سے یہ کہا تھا، جب کفار یہ کہنے لگے تھے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے رب نے چھوڑ دیا اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

ہمارے آگے اور ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے سب اس کی مکلیت ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابن جریج نے کہا دنیا کے جو معاملات ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اور جو ہمارے بعد واقع ہوں گے اور آخر کے معاملات وہ سب اس کی ملکیت ہیں۔

اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے، یعنی جب آپ کا رب چاہتا ہے تو ہمیں آپ کی طرف بھیج دیتا ہے اور خواہ وحی کا نزول کسی وجہ سے موخر ہو آپ کا رب آپ کو بھولنے والا نہیں ہے اور اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اگلی اور تمام پچھلی چیزوں کا جاننے والا ہے اور وہ کسی چیز کو بھولنے والا نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 64