أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَبَتِ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا‏ ۞

ترجمہ:

اے میرے ابا ! مجھے خطرہ ہے کہ آپ کو رحمٰن کی طرف سے عذاب پہنچے گا پس آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت ابراہیم نے کہا) اے میرے اباب ! مجھے خطرہ ہے کہ آپ کو رحمٰن کی طر سے عذاب پہنچے گا پس آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں گے (مریم :45)

شیطان کی ولایت کا معنی 

فزا نے کہا ” مجھے خطرہ ہے “ کا معنی ہے مجھے علم ہے کہ آپ کو عذاب پہنچے گا۔ اس کا مطلب یہ یہ کہ حضرت ابراہیمع لیہ السلام کو یہ علم تھا کہ آزر کفر پر مرے گا اور اکثر مفسرین نے یہ کہا کہ یہاں خوف اپنے معنی میں ہے۔ ینی یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آزر ایمان لے آتا اور اس کو دوزخ کے عذاب سے نجات مل جاتی اور یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ ایمان نہ لاتا اور دوزخ میں چلا جاتا اور ظاہر قرآن سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ یقین ہوتا کہ آزر نے کفر پر ہی مرنا ہے تو ان کی تبلیغ میں اس قدر زور نہ ہوتا کیونکہ اگر انسان کو پہلے ہی یہ علم ہو کہ اس کی کوشش رائیگاں جائے گی تو پھر اس کی کوشش میں اس قدر جذبہ نہیں ہوتا، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : پس آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں گے اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) کسی شخص کا کسی کا ولی ہونا اس کے ” مع “ ہونے کا سبب ہوتا ہے اور جب آزر بھی عذاب کا مستحق ہوگا تو وہ دوزخ میں شیطان کے ” مع “ ہوگا اس لئے فرمایا وہ شیطان کا ولی ہوگا۔

(٢) اس آیت میں عذاب سے مراد رسوا ہونا ہے اور جو آدمی شیطان کو اپنا ولی بناتا ہے وہ نقصان اٹھاتا ہے اور رسوا ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

ومن یتخذ الشیطن ولیامن دون اللہ فقد خیر خسراناً مبینا (النساء :119) اور جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو ولی بنائے گا تو وہ کھلا ہوا نقصان اٹھائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 45