أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَبَتِ اِنِّىۡ قَدۡ جَآءَنِىۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ فَاتَّبِعۡنِىۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا ۞

ترجمہ:

اے میرے ابا ! بیشک میرے پاس ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا آپ میری پیروی کیجیے میں آپ کو سیدھا راستہ دکھائوں گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت ابراہیم نے کہا) اے میرے ابا ! بیشک میرے پاس ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا آپ میری پیروی کیجیے میں آپ کو سیدھا راستہ دکھائوں گا۔ (مریم :43)

نبی کی اتباع کو تقلید نہ کہنے کی وجہ 

اس آیت سے مقلدین نے استدلال کیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے ان کو خود غور و فکر کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ یہ حکم دیا ہے کہ وہ ان کی اتباع اور پیروی کریں، اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص میں غور و فکر کرنے کی صلاحیت نہ ہو اور جس کے پاس علم کے ذرائع نہ ہوں اس پر عمل والے کی تقلید کرنا لازم ہے، لیکن انبیاء (علیہم السلام) کی اتباع کو تقلید نہیں کہتے کیونکہ تقلید تشکیک مشکک سے زائل ہوجاتی ہے اور تقلید میں اس پر جزم ہوتا ہے کہ جس امام کی وہ تقلید کر رہا ہے اس کے متعلق یہی غالب ظن ہے کہ وہ برحق ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کی رائے غلط ہو اور دور سے امام کی رائے صحیح ہو، لیکن جو شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرتا ہے اس کے متعلق سو فیصد جزم ہوتا ہے کہ نبی کا حکم برحق اور صحیح ہے اس میں غلط ہونے کا امکان یا احتمال نہیں ہے اس لئے نبی کی اتباع کو تقلید نہیں کہتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 43