وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىٕسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۶۹)

اور جب وہ یوسف کے پاس گئے (ف۱۶۳) اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (ف۱۶۴) کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی (ف۱۶۵) ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا (ف۱۶۶)

(ف163)

اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے پاس اپنے بھائی بنیامین کو لے آئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تم نے بہت اچھا کیا پھر انہیں عزّت کے ساتھ مہمان بنایا اور جا بجا دستر خوان لگائے گئے اور ہر دستر خوان پر دو دو صاحبوں کو بٹھایا گیا ، بنیامین اکیلے رہ گئے تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے کہ آج اگر میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو مجھے اپنے ساتھ بٹھاتے ، حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایاکہ تمہارا ایک بھائی اکیلا رہ گیا اور آپ نے بنیامین کو اپنے دستر خوان پر بٹھایا ۔

(ف164)

اور فرمایا کہ تمہارے ہلاک شدہ بھائی کی جگہ میں تمہارا بھائی ہو جاؤں تو کیا تم پسند کرو گے ؟ بنیامین نے کہا کہ آپ جیسا بھائی کس کو میسّر آئے لیکن یعقوب (علیہ السلام) کا فرزند اور راحیل ( مادرِ حضرت یوسف علیہ السلام ) کا نورِ نظر ہونا تمہیں کیسے حاصل ہو سکتا ہے ؟ حضرت یوسف علیہ السلام رو پڑے اور بنیامین کو گلے سے لگایا اور ۔

(ف165)

یوسف ( علیہ السلام) ۔

(ف166)

بے شک اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں خیر کے ساتھ جمع فرمایا اور ابھی اس راز کی بھائیوں کو اطلاع نہ دینا ، یہ سن کر بنیامین فرطِ مسرت سے بے خود ہوگئے اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہنے لگے اب میں آپ سے جدا نہ ہوں گا ، آپ نے فرمایا والد صاحب کو میری جدائی کا بہت غم پہنچ چکا ہے اگر میں نے تمہیں بھی روک لیا تو انہیں اور زیادہ غم ہوگا علاوہ بریں روکنے کی بجز اس کے اور کوئی سبیل بھی نہیں ہے کہ تمہاری طرف کوئی غیر پسندیدہ بات منسوب ہو ۔ بنیامین نے کہا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ(۷۰)

پھر جب ان کا سامان مہیّا کردیا (ف۱۶۷) پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا (ف۱۶۸) پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بےشک تم چور ہو

(ف167)

اور ہر ایک کو ایک بارِ شترغلّہ دے دیا اور ایک بارِ شتر بنیامین کے نام کا خاص کر دیا ۔

(ف168)

جو بادشاہ کے پانی پینے کا سونے کا جواہرات سے مرصّع کیا ہوا تھا اور اس وقت اس سے غلّہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا ، یہ پیالہ بنیامین کے کجاوے میں رکھ دیا گیا اور قافلہ کنعان کے قصد سے روانہ ہوگیا جب شہر کے باہر جا چکا تو انبار خانہ کے کارکنوں کو معلوم ہوا کہ پیالہ نہیں ہے ان کے خیال میں یہی آیا کہ یہ قافلے والے لے گئے انہوں نے اس کی جستجو کے لئے آدمی بھیجے ۔

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ(۷۱)

بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تم کیا نہیں پاتے

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ(۷۲)

بولے بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو اسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ(۷۳)

بولے خدا کی قسم تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہ آئے اور نہ ہم چور

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ(۷۴)

بولے پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے ہو (ف۱۶۹)

(ف169)

اس بات میں اور پیالہ تمہارے پاس نکلے ۔

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ(۷۵)

بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب(سامان) میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے (ف۱۷۰) ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے (ف۱۷۱)

(ف170)

اور شریعتِ حضرت یعقوب علیہ السلام میں چوری کی یہی سزا مقرر تھی چنانچہ انہوں نے کہا کہ ۔

(ف171)

پھر یہ قافلہ مِصر لایا گیا اور ان صاحبوں کو حضرت یوسف علیہ السلام کے دربار میں حاضر کیا گیا ۔

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِؕ-كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَؕ-مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ-وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ(۷۶)

تو اول ان کی خرجیوں(تھیلوں) سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی (ف۱۷۲) کی خُرجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرجی سے نکال لیا (ف۱۷۳) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ف۱۷۴) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے (ف۱۷۵) مگر یہ کہ خدا چاہے (ف۱۷۶) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۷) اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے (ف۱۷۸)

(ف172)

یعنی بنیامین ۔

(ف173)

یعنی بنیامین کی خرجی سے پیالہ برآمد کیا ۔

(ف174)

اپنے بھائی کے لینے کی اس معاملہ میں بھائیوں سے استفسار کریں تاکہ وہ شریعتِ حضرتِ یعقوب علیہ السلام کا حکم بتائیں جس سے بھائی مل سکے ۔

(ف175)

کیونکہ بادشاہِ مِصر کے قانون میں چوری کی سزا مارنا اور دُونا مال لے لینا مقرر تھی ۔

(ف176)

یعنی یہ بات خدا کی مشیت سے ہوئی کہ ان کے دل میں ڈال دیا کہ سزا بھائیوں سے دریافت کریں اور ان کے دل میں ڈال دیا کہ وہ اپنی سنّت کے مطابق جواب دیں ۔

(ف177)

علم میں جیسے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے درجے بلند فرمائے ۔

(ف178)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ہر عالِم کے اوپر اس سے زیادہ علم رکھنے والا عالِم ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ اللہ تعالٰی تک پہنچتا ہے اس کا علم سب کے علم سے برتر ہے ۔

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے بھائی عُلَماء تھے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام ان سے اَعلم تھے ، جب پیالہ بنیامین کے سامان سے نکلا تو بھائی شرمندہ ہوئے اور انہوں نے سر جھکائے اور ۔

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُۚ-فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْۚ-قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًاۚ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ(۷۷)

بھائی بولے اگر یہ چوری کرے (ف۱۷۹) تو بےشک اس سے پہلے ایک بھائی چوری کرچکا ہے (ف۱۸۰) تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو (ف۱۸۱) اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو

(ف179)

یعنی سامان میں پیالہ نکلنے سے سامان والے کا چوری کرنا تو یقینی نہیں لیکن اگر یہ فعل اس کا ہو ۔

(ف180)

یعنی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام اور جس کو انہوں نے چوری قرار دے کر حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف نسبت کیا ، وہ واقعہ یہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے نانا کا ایک بُت تھا جس کو وہ پوجتے تھے ، حضرت یوسف علیہ السلام نے چپکے سے وہ بُت لیا اور توڑ کر راستہ میں نجاست کے اندر ڈال دیا ، یہ حقیقت میں چوری نہ تھی بُت پرستی کا مٹانا تھا ۔ بھائیوں کا اس ذکر سے یہ مدعا تھا کہ ہم لو گ بنیامین کے سوتیلے بھائی ہیں ، یہ فعل ہو تو شاید بنیامین کا ہو ، نہ ہماری اس میں شرکت ، نہ ہمیں اس کی اطلاع ۔

(ف181)

اس سے جس کی طرف چوری کی نسبت کرتے ہو کیونکہ چوری کی نسبت حضرت یوسف کی طرف تو غلط ہے ، فعل تو شرک کا ابطال اور عبادت تھا اور تم نے جو یوسف کے ساتھ کیا وہ بڑی زیادتیاں ہیں ۔

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ-اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۷۸)

بولے اے عزیز !اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے (ف۱۸۲) تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو بےشک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں

(ف182)

ان سے مَحبت رکھتے ہیں اور انہیں سے ان کے دل کی تسلّی ہے ۔

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤۙ-اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠(۷۹)

کہا (ف۱۸۳) خدا کی پناہ کہ ہم لیں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا (ف۱۸۴) جب تو ہم ظالم ہوں گے

(ف183)

حضرت یوسف علیہ السلام نے ۔

(ف184)

کیونکہ تمہارے فیصلہ سے ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں جس کے کجاوے میں ہمارا مال ملا اگر ہم بجائے اس کے دوسرے کو لیں ۔