أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اَنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا الشَّيٰـطِيۡنَ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ تَؤُزُّهُمۡ اَزًّا ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر (مسلط کر کے) بھیجا جو انہیں (برائیوں پر) برانگیختہ کرتے رہتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر (مسلط کر کے) بھیجا جو انہیں (برائیوں پر) برانگیختہ کرتے رہتے ہیں سو آپ ان کے متعلق جلدی نہ کریں ہم تو صرف ان کی میعاد پوری کر رہے ہیں جس دن ہم متقین کو رحمٰن کی طرف سواریوں پر بھیجیں گے اور ہم مجرموں کو پیاسا جہنم کی طرف ہانکیں گے وہی شفاعت کے مالک ہوں گے جو رحمٰن سے عہد لے چکے ہیں (مریم :83-87)

شیاطین کو کافروں پر مسلط کرنا اور ” از “ کا معنی 

مریم :83 میں مذکور ہے ان ارسلنا الشیاطین علی الکافرین اس کا لفظیم عنی ہے ہم نے شیاطین کو کافروں پر بھیجا، لیکن امام رازی، علامہ قرطبی اور علامہ آلوسی نے کہا ہے اس کا معنی ہے ہم نے شیاطین کو کافروں پر مسلط کردیا، نیز مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ارسلنا تسلیط کے معنی کو متضمن ہے اب اس کا ترجمہ ہوگا ہم نے شایطین کو کافروں پر مسلط کر بھیجا اور ہم نے یہی ترجمہ کیا ہے۔

زجاج نے کہا اس آیت کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ ہم نے شیاطنوں کے لئے کافروں کا راستہ خالی چھوڑ دیا اور ان کے لئے شیطانوں کے وسوسوں سے کوئی حفاظت نہیں کی اور دوسرا معنی یہ ہے کہ شیطانوں کو ان پر مسلط کردیا اور ان کے کفر کی وجہ سے ان پر شیطانوں کو قادر کردیا (زاد المسیر) نیز اس آیت میں فرمایا ہے ” توزھم ازا ‘ یعنی جو انہیں برائیوں پر ابھاتر ہیں اور اکساتے ہیں، ” از “ کا معنی ہے کسی کو کسی کام پر برانگیختہ کرنا، اس کو بھڑکانا اور جشو میں لانا، جب دیگچی میں پانی ابلتا ہے اور جوش میں آتا ہے تو اس کے ابلنے کی آواز کو ازیز کہتے ہیں۔ حدیث میں ثابت بن مطرف اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور آپ کے سینہ سے رونے کی ایسی آواز آرہی تھی جیسے چکی چلنے کی آواز آی ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :904، سنن السنائی رقم الحدیث :1213)

حضرت ابن عباس (رض) عنھما نے فرمایا شیطان کافروں کو اطاعت کے بجائے معصیت کی طرف لاتے تھے، نیز انہوں نے فرمایا وہ ان کو مسلسل برے کاموں کی طرف راغب کرتے رہتے تھے حتیٰ کہ انہیں دوزخ میں پہنچا دیتے ہیں۔

اس آیت سے مقصود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی دینا ہے کہ کافر جو ایمان نہیں لا رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کو بھڑکا رہے ہیں نہ یہ کہ آپ کی تبلیغ میں کوئی کمی اور قصور ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 83