أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے عنقریب رحمٰن ان کے لئے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے عنقریب رحمن ان کے لئے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ آپ اس متقین کو بشارت دیں اور جھگڑالو قوم کو اس سے ڈرائیں اور ہم اس سے پہلے کتنی صدیوں کے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں، کیا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں یا ان میں سے کسی کی آہٹ سنتے ہیں : (مریم :96-98)

اولیاء کرام کی ولایت کی دلیل 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو ندا کر کے فرماتا ہے کہ بیشک اللہ فلاں بندہ سے محبت کرتا ہے سو تم اس سے محبت رکھو، پس جبریل اس سے محبت کرتا ہے، پھر جبریل آسمان والوں میں ندا کرتا ہے کہ اللہ فلاں بندہ سے محبت کرتا ہے سو تم اس سے محبت رکھو، تو اس بندہ سے آسمان والے محبت رکھتے ہیں۔ پھر زمین والوں کے لئے اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6040، صحیح مسلم رقم الحدیث :2637، سنن الترمذی رقم الحدیث :3161، مئوطا امام مالک رقم الحدیث :2006 ء مسند الطیالسی رقم الحدیث :2436، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث :19673، مسند احمد ج ہ ص 267 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :364 حلیتہ الاولیاء، ج ٣ ص 258 الاسماء و الصفات : ج ٢ ص 260، المسند الجامع رقم الحدث :14144)

حضرت ابن عباس (رض) عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ نے صالحین اور ملائکہ مقربین کے دلوں میں مومن کی الفت، ملاحت اور محبت پیدا کردی ہے۔ (نوادر الاصول ج ٤ ص 80 مطبوعہ دارالجیل بیروت، 1412 ھ)

انبیاء (علیہم السلام) صحابہ کرام، اہل بیت عظام اور الویاء کرام کی محبت اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کردی ہے۔ حضرت علی ہجویری، حضرت غوث اعظم، حضرت معین الدین چشتی اور حضرت مجدد الف ثانی رحمہم اللہ ان سب اور دیگر اولیاء کرام کی محبت اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کردی ہے اور ہم ان کی ولادیت کو لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت سے پچانتے ہیں اور ان کی ولایت کو مسلمانوں کی شہادت سے پہچانتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 96