رواج کو نہیں اسلام کو دیکھو

دور حاضر میں مسلمانوں میں کمی اس بات کی ہے کہ وہ اسلام کی ساری باتوں کو مانتے تو ہیں لیکن ساری باتوں پر عمل نہیں کرتے،جس عمل پر رواج بن گیا اسے نہیں چھوڑتے اگر چہ وہ رواج خود ساختہ ہو اور اسکا اسلام کی تعلیم سے دور کا بھی واستہ نہ ہو،اگر چہ ہم مسلمان جانتے ہیں کہ یہ اسلام کی تعلیم نہیں یہ رواج ہے اور یہ ہماری کمی ہے مگر غیر مسلم کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ اسلام نہیں رواج ہے اس لئے کہ وہ تو ہمیں مسلمان مان رہے ہیں اور ہمارے معاشرہ کو اسلامی معاشرہ سمجھ رہے ہیں،بہت ساری باتیں جو رواجا غلط ہیں اور مسلمان غلط جان کر کر رہے ہیں انہیں

اسلام دشمن ہمارا دین کہہ کردنیا کو دھوکہ دیتے ہیں،اور یہ کہتے ہیں دیکھو مسلمانوں کو ان کے یہاں کیسے کیا جارہا ہے،مسلمان بولتے ہیں اور طشانہ اسلام ہوتا ہے تو پھر ہم اپنے غلط رواجوں سے توبہ نہ کریں اور اسلام کی درست تعلیمات کو عمل میں نہ لائیں تو ہم اپنے کردار سے اپنے اسلام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں،اچھی طرح سے یہ جان لو کہ ہم اپنے اسلام کی کھلی ہوئے کتاب ہیں غیر مسلم ہمیں دیکھ کر ہمارے اسلام تک راستہ پاتے ہیں،کتابوں میں دیکھ کر وہاں تک رسائی کا وقت کس کے پاس ہے؟ اور کتابوں سے جاننے میں زبانوں کا فرق بھی تو مانع ہے جب کہ عمل زبان نہ جاننے والے کو بھی آنکھ سے دکھا کر راستہ بتا دیتا ہے،اس لئے ہم مسلمانوں کو اپنے معاشرہ کو ہر اعتبار سے اسلامی معاشرہ بنانا چاہیئے تاکہ ہمیں دیکھ کر اسلام سیکھنے والوں کے لئے آسانی ہو سکے