أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الۡمُتَّقِيۡنَ وَتُنۡذِرَ بِهٖ قَوۡمًا لُّدًّا‏ ۞

ترجمہ:

ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان کردیا تاکہ آپ اس سے متعقین کو بشارت دیں اور جھگڑالو قوم کو اس سے ڈرائیں

” لد “ کا معنی 

مریم :97 میں فرمایا : ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان کردیا ہے یعنی ہم نے اس قرآن کو آپ کی عربی زبان میں نازل کیا ہے اور اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس کی فہم کو آسان کردیا ہے۔

اس آیت میں جھگڑالو کے لئے ” لد “ کا لفظ ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا ” الالد “ وہ شخص ہے جو حق کو قبول نہیں کرتا اور باطل کا دعویٰ کرتا ہے، حسن نے کہا ” لد “ وہ شخص ہے جو حق سننے سے بہرا ہو، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جو سخت جھگڑا کرتا ہو، ڈرانے کے لئے جھگڑالو کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ جو شخص معاند اور جھگڑالو نہ ہو اس کو سمجھانا آسان ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 97