قرآنِ مجید حفظ کرنے کے فضائل:

قرآنِ کریم کوحفظ کرنا فرض کفایہ ہے اور یہ صحابہ و تابعین اور علمائے دین متین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماَجْمَعِینْ کی سنت ہے اور اس کے فضائل حَصر و شمار سے باہر ہیں ،ترغیب کے لئے یہاں تین فضائل درج ذیل ہیں :

(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ قرآن والا قیامت کے روز آئے گا اور قرآن عرض کرے گا: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اسے خِلْعَت عطا فرما ،تو اس شخص کو کرامت کا تاج پہنایا جائے گا۔ قرآن پھر عرض کرے گا :اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اور زیادہ کر، تو اسے بزرگی کا حُلَّہ پہنایا جائے گا۔ پھر عرض کرے گا: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اس سے راضی ہوجا، تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجائے گا۔ پھر اس شخص سے کہا جائے گا :پڑھتے رہو اور (درجات) چڑھتے جاؤ، اور ہرآیت پرایک نیکی زیادہ کی جائے گی۔ (ترمذی، کتاب فضائل القرآن، ۱۸-باب، ۴/۴۱۹، الحدیث: ۲۹۲۴)

(2)…حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’صاحب ِقرآن کو حکم ہوگا کہ پڑھتے رہو اور (درجات) چڑھتے جاؤ اور ٹھہرٹھہر کر پڑھو جیسے تم اسے دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے کہ تمہارا مقام اس آخری آیت کے نزدیک ہے جسے تم پڑھو گے ۔(ترمذی، کتاب فضائل القرآن، ۱۸-باب، ۴/۴۱۹، الحدیث: ۲۹۲۳)

اس حدیث ِپاک کاحاصل یہ ہے کہ ہرآیت پرایک ایک درجہ اس کا جنت میں بلند ہوتا جائے گا اور جس کے پاس جس قدرآیتیں ہوں گی اسی قدردرجے اسے ملیں گے۔ 

(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ ’’حافظ قرآن اگر رات کو تلاوت کرے تو اس کی مثال اس توشہ دان کی ہے جس میں مشک بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبو تمام مکانوں میں مہکے اور جو رات کو سورہے اور قرآن اس کے سینے میں ہو تو اس کی مثال اس توشہ دان کی مانند ہے جس میں مشک ہے اور اس کا منہ باندھ دیاجائے۔ 

(ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فی فضل من تعلّم القرآن وعلمہ، ۱/۱۴۱، الحدیث: ۲۱۷)  

یہ قرآنِ مجید حفظ کرنے کے فضائل ہیں لہٰذا جس مسلمان سے بن پڑے وہ قرآن مجید حفظ کر کے ان فضائل کو حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جنہوں نے قرآن مجید حفظ کر لیا ہے انہیں چاہئے کہ اسے روزانہ یاد کرتے رہیں تاکہ حفظ بھول نہ جائے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک حدیث پاک کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’یعنی جس طرح بندھے ہوئے اونٹ چھوٹنا چاہتے ہیں اور اگر ان کی محافظت واحتیاط نہ کی جائے تو رہا ہوجائیں اس سے زیادہ قرآن کی کیفیت ہے ،اگر اسے یاد نہ کرتے رہو گے تو وہ تمہارے سینوں سے نکل جائے گا ، پس تمہیں چاہئے کہ ہروقت اس کا خیال رکھو اور یاد کرتے رہو، اس دولت بے نہایت کوہاتھ سے نہ جانے دو۔اسی طرح ایک اور حدیث پاک کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ یعنی اے قرآن والو!قرآن کو تکیہ نہ بنالو کہ پڑھ کے یاد کرکے رکھ چھوڑا ، پھر نگاہ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ اسے پڑھتے رہو دن رات کی گھڑیوں میں جیسے اس کے پڑھنے کاحق ہے اور اسے افشا کرو کہ خود پڑھو، لوگوں کو پڑھاؤ ، یاد کراؤ، اس کے پڑھنے، یاد کرنے کی ترغیب دونہ یہ کہ جو پڑھے اور خدا اسے حفظ کی توفیق دے اس کو روکو اور منع کرو۔پھر فرماتے ہیں ’’اس سے زیادہ نادان کون ہے جسے خدا ایسی ہمت بخشے(کہ وہ قرآن پاک حفظ کر لے) اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھودے ؟اگرقدر اس کی جانتا اور جو ثواب اور درجات اس پر مَوعود ہیں ان سے واقف ہوتا تو اسے جان و دل سے زیادہ عزیزرکھتا۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۶۴۲-۶۴۵)