أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ۙ اَىُّ الۡفَرِيۡقَيۡنِ خَيۡرٌ مَّقَامًا وَّاَحۡسَنُ نَدِيًّا ۞

ترجمہ:

اور جب ان پر ہماری واضح آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو کفار مومنوں سے کہتے ہیں کہ دو فریقوں میں سے کسی کا مقام زیادہ اچھا ہے اور کسی کی مجلس زیادہ بہتر ہے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان پر ہماری واضح آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو کفار مومنوں سے کہتے ہیں کہ وہ دو فریقوں میں سے کس کا مقام زیادہ اچھا ہے اور کس کی مجلس زیادہ بہتر ہے اور ہم ان سے پہلے کتنی بستیوں کو تباہ کرچکے ہیں جن کا سامان اور آرائش ان سے زیادہ شاندار تھی (مریم :73-74)

دنیاوی فراخ دستی اور تنگ دستی حق اور باطل کا معیار نہیں ہے 

مشرکین قریش جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کے منکر تھے جب ان کے سامنے قیامت اور حشر اجسام پر دلائل قائم کئے گئے تو انہوں نے اس پر معارضہ کرتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ اگر تم حق پر ہوتے اور ہم باطل ہو ہوتے تو تم دنیا میں بہت خوش حال اور ٹھاٹھ باٹھ سے رہتے اور کفار بہت زبوں حال ہوتے، حالانکہ واقعہ اس کے برعکس ہے تو بہت غربت اور پس ماندگی کی زندگی گزار رہے ہو اور کفار بہت کشادگی اور شادمانی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا تم جس کے کفر اور ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اچانک ان پر ہر مارا عذاب آگیا اور ان کا تمام سامان عیش و عشرت ملیا میٹ کردیا گیا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی کی پر تعیش زندگی اس کے برحق ہونے کی علامت نہیں ہے اور کسی کی پس ماندگی اور دردماندی اس کے باطل ہونے کی دیل نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 73