أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ‌ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتۡمًا مَّقۡضِيًّا‌ ۞

ترجمہ:

اور بیشک تم میں سے ہر شخص ضرور دوزخ پر وارد ہوگا یہ آپ کے رب کے نزدیک قطعی فیصلہ کیا ہوا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک تم میں سے ہر شخص ضرور دوزخ پر وارد ہوگا یہ آپ کے رب کے نزدیک قطعی فیصلہ کیا ہوا ہے پھر ہم متقین کو دوزخ سے نکال لیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے (مریم :71-72)

آیا دوزخ میں دخول کافروں کے ساتھ خاص ہے یا ہر شخص دوزخ میں داخل ہو گا 

اس آیت کی تقسیر میں کئی وجوہ سے اختلاف ہے، حضرت ابن عباس (رض) عنھما کا ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت کفار کے ساتھ خاص ہے کیونکہ اس سے پہلی آیات کفار کے متعلق ہیں کہ ان کو دوبارہ زندہ کئے جانے کے متعلق شک ہے اور ہم ضرور ان سب کو اور شیطانوں کو جمع کریں گے پھر ہم انہیں ضرور جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کریں گے، اس کے بعد فرمایا اور بیشک تم میں سے ہر شخص ضرور دوزخ پروار ہوگا۔ اور ایک شاذ قرأت یہ ہے : وان منھم الاواردھا اور ان (کافروں) میں سے ہر شخص دوزخ پر وارد ہوگا، عکرمہ اور سعید بن جبیر کا بھی یہی قول ہے ان کی دیل یہ ہے کہ مومنوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ جہنم سے دور رہیں گے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولٓئک عنھا مبعدون لایسمعون حسیسھا (الانبیاء :101-102) بیشک جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے نیک انجام پہلے ہی مقدر ہوچکا ہے وہ سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے وہ دوزخ کی آہٹ تک نہ سنیں گے۔

سو اگر مسلمانوں کا بھی جہنم میں ورود اور دخول ہو تو وہ اس آیت کے خلاف ہوگا اور جو اس آیت کو عام مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ سے مسلمانوں کو دور رکھا جائے گا اور وہ آگ کی آہٹ نہیں سنیں گے اور جب وہ دوزخ میں داخل ہوں گے تو وہ ٹھنڈی ہوچکی ہوگی۔

اکثر مفسرین کا مختاریہ ہے کہ مومن اور کافر ہر شخص کا جہنم پر وردہ ہوگا اور ورد کا معنی دخول ہے یعنی ہر شخص جہنم میں داخل ہوگا۔

ابوسمیعہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارا ورود کے معنی میں اختلاف ہوا، ہم میں سے بعض نے کہا دوزخ میں مومن داخل نہیں ہوں گے اور بعض نے کہا سب لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ متقین کو دوزخ سے نجات دے دے گا۔ پھر میری حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے ملاقات ہوئی میں نے ان سے اس اختلاف کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ورود، دخول ہے اور ہر نیک اور بد دوزخ میں داخل ہوگا، پھر دوزخ مسلمانوں پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی، جیسا کہ حضرت ابراہیم پر تھی حتیٰ کہ ان کی ٹھنڈک کی وجہ سے دوزخ چیخ و پکار کرے گی پھر اللہ تعالیٰ دوزخ سے متقین کو نجات دے دے گا اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل دوزخ میں چھوڑ دے گا۔ (مسند حمد ج ٣ ص 328-329 طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث :14574، عالم الکتب بیروت، حافظ زین نے کہ کا اس کی سند حسن ہے، مسند حمد رقم الحدیث :14457، دارالحدیث قاہرہ، المستدرک ج ٤ ص 587، مسند عبدبن حمید رقم الحدیث :1107 حافظ الھیثمی نے کہا اس کے راوی قہ ہیں، مجمع الزوائد ج ٧ ص ٥٥ حافظ المنذری نے کہا اس کی سند صحیح ہے الترغیب ج ٤ ص 427)

خالد بن معدان نے کہا جب اہل جنت جنت میں داخل ہوجائیں گے تو آپس میں کہیں گے کیا ہمارے رب نے ہم سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ ہم دوزخ میں جائیں گے۔ ان سے کہا جائے گا کیوں نہیں ، لیکن جب تم دوزخ سے گزرے تھے تو وہ ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ (زاد المسیر ج ٥ ص 255، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان کے تین (نابالغ) بچے فوت ہوگئے ہوں (اور اس نے ان پر صبر کیا ہو) وہ دوزخ میں صرف قسم پوری کرنے کے لئے داخل ہوگا اور قسم سے مراد ہے وان منکم الاواردھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1251 صحیح مسلم رقم الحدیث :3632 سنن الترمذی رقم الحدیث :1060 سنن النسائی رقم الحدیث :1875، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1603 معالم التنزیل ج ٣ ص 1409)

اس حدیث سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلمان بھی دوزخ میں داخل ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ سے نجات دے دے گا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرماا : لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے پھر اپنے اعمال کی وجہ سے اس سے نکل جائیں گے بعض پلک جھپکنے کی طرح نکل جائیں گے بعض تیز رفتار گھوڑے کی طرح بعض شتر سوار کی طرح اور بعض تیز رفتار چلنے والے شخص کی طرح (سنن الترمذی رقم الحدیث، 3159 المستدرک رقم الحدیث :3421)

اس مسئلہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی نافع بن ارزق خارجی سے بحث ہوئی۔ آپ نے فرمایا : میں اور تو دونوں دوزخ میں داخل ہوں گے، رہا میں تو مجھے اللہ تعالیٰ اس سے نجات دے دے گا اور رہا تو، تو میں یہ گمان نہیں کرتا کہ تجھے اللہ تعالیٰ دوزخ سے نجات دے گا کیونج کہ تو اس آیت کی تکذیب کرتا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 59)

دوزخ میں دخول پل صراط سے گزرنا ہے 

حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، قتادہ اور کعب الاحبار وغیرھم سے یہ بھی مروی ہے کہ ورود سے مراد دوزخ میں دخول نہیں ہے بلکہ اس سے مراد پل صراط سے گزرنا ہے۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) سے امام مسلم نے ایک طویل حدیث روایت کی ہے اس میں مذکور ہے کہ پھر دوزخ کے اوپر ایک پل بچھایا جائے گا اور شفاعت کی اجازت مل جائے گی اور انبیاء کرام کہیں گے اے اللہ سلامت رکھ، اے اللہ سلامت رکھ، آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! وہ پل کیا چیز ہے آپ نے فرمایا : وہ ایک پھسلوان جگہ ہوگی اور اس میں دندانے دار کانٹے ہوں گے، وہ لوہے کے کانٹے سعدان نامی جھاڑی کے کانٹوں کی طرح ہوں گے۔ بعض مسلمان اس پل سے پبلک جھپکنے میں گزر جائیں گے بعض بجلی کی طرح، بعض آندھی کی طرح۔ بعض پرندوں کی طرح، بعض تیز رفتار اعلیٰنسل کے گھوڑوں کی طرح اور بعض اونٹوں کی طرح، یہ سب صحیح سلامت پار پہنچ جائیں گے اور بعض مسلمان کانٹوں سے الجھتے ہوئے پار پہنچیں گے اور بعض مسلمان کانٹوں سے زخمی ہو کر جہنم میں گرجائیں گے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے جو مومن نجات پا کر جنت میں چلے جائیں گے وہ اپنے ان مسلمان بھائیوں کو جو نہم میں پڑے ہوں گے جہنم سے چھڑانے کے لئے (بہ طور ناز) اللہ تعالیٰ سے ایسا جھگڑا کریں گے جیسے کوئی شخص اپنا حق مانگنے کے لئے بھی کسی سے جھگڑا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! یہ لوگ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے۔ ہمارے ساتھ حج کرتے تھے ان سے کہا جائے گا جن لوگوں کو تم پہچانتے ہو ان کو دوزخ سے نکال لو، ان لوگوں پر دوزخ کی آگ حرام کردی جائے گی پھر جنتی مسلمان کثیر تعداد میں ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لائیں گے جن میں سے بعض کی نصف پنڈلیوں کو اور بعض کو گھٹنوں تک دوزخ کی آگ نے جلا ڈالا تھا، الحدیث (صحیح مسلم رقم الحدیث :183 صحیح البخاری رقم الحدیث :4581)

اس حدیث سے پل صراط پر استدلال کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے سے مراد پل صراط سے گزرنا ہے اور اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مسلم اور کافر سب دوزخ میں داخل ہوں گے۔

بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ جہنم میں ورود سے مراد یہ ہے کہ لوگ جہنم کو جھانک کر دیکھیں گے اور اس پر مطلع ہوں گے کیونکہ لوگ حساب و کتاب کی جگہ پر حاض رہوں گے اور وہ جہنم کے قریب ہے، پس وہ حالت حساب میں جہنم کو دیکھیں گے پھر اللہ تعالیٰ متقین کو دوزخ سے نجات دے دے گا جس کو انہوں نے دیکھا تھا اور ان کو جنت میں بھیج دے گا اور کافروں کو دوزخ میں بھیجنے کا حکم دے گا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ورود کا معنی دخول ضروری نہیں ہے بلکہ ورود کسی جگہ یک دیکھنے کو بھی کہتے ہیں جیسے قرآن مجید میں ہے :

ولما وردمآء مدین (القصص :23) جب موسیٰ مدین کے پانی پروارد ہوئے۔ اس کا معنی ہے اس پانی کے نزدیک پہنچے نہ یہ کہ اس پانی میں داخل ہوئے۔

مسلمانوں کے دخول نار سے مراد ان پر بخار آنا ہے۔

بعض علماء کا یہ نظریہ ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں جو بخار آتا ہے وہی ان کے حق میں دوزخ میں داخل ہونا ہے اور جن مسلمانوں کو دنیا میں بخار آگیا وہ آخرت میں دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے۔

حافظ ابو عمر ابن عبدالبر مالکی متوفی 463 ھ لکھتے ہیں :

ایک جماعت نے کہا ہے کہ مومن کو دوزخ سے دور کردیا جائے گا وہ اس کو دیکھے گا نہ اس پر وار ہوگا اور دنیا میں اس کو جو بخار آیا تھا وہی اس کے حق میں دوزخ پر ورود ہوگا۔ عثمان بن اسود نے کہا دوزخ کی آگ سے مومن کا حصہ دنیا میں بخار آنا ہے۔ سو وہ آخرت میں دوزخ پر وارد نہیں ہوگا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بخار والے میرض کی عیادت کی میں بھی آپ کے ساتھ تھا، آپ نے اس سے فرمایا تمہیں خوش خبری ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میری آگ ہے جس کو میں بندہ مومن کے اوپر مسلط کرتا ہوں تاکہ یہ اس کے لئے آخرت کی آگ کا حصہ ہوجائے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ سنن الترمذی رقم الحدیث :3470 مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص 229، مسند احمد ج ٢ ص 440 سنن الترمذی رقم الحدیث :2088، المستدرک ج ١ ص 345، المسند الجامع رقم الحدیث :13967)

ابوریحانہ انصاری (رض) کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخار دوزخ کی بھٹی ہے اور یہ مومن کا آگ سے حصہ ہے۔ (الترغیب والترھیب ج ٢ ص 270، الاستذ کا رقم الحدیث :11752)

اس کی تائید میں وہ احادیث بھی ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ مومن پر دنیا میں جو مصائب آتے ہیں وہ اس کے لئے آگ سے حجاب بن جات یہیں۔

ابوالنظر اسلمی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوں اور وہ ان پر صبر کرے تو وہ اس کے لئے دوزخ سے ڈھال بن جائیں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک خاتون تھیں انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! یا دو ہوں ! آپ نے فرمایا : یا دو ہوں۔ (مئوطا امام مالک رقم الحدیث :335، الاستذ کا رقم الحدیث :516)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کی اولاد اور اس کے رشتہ داروں پر ہمیشہ مصائب آتے رہیں گے حتیٰ کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

(مئوطا امام مالک رقم الحدیث :236، مسند احمد ج ٢ ص 450، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2913، المستدرج ج ١ ص 246 سنن الترمذی رقم الحدیث :2399)

اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ انسان پر اس کی اپنی جان، اس کی اولاد اس کے قرابت داروں پر جو مصائب آتے ہیں ان کی وجہ سے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کی جان، اس کے مال اور اس کی اولد پر مصائب آتے رہیں گے حتیٰ کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ (الاستذ کا رقم الحدیث :117-61)

خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں متعدد اقوال ہیں، ایک قول یہ ہے کہ صرف کفار، دوزخ میں داخل ہوں گے مسلمان داخل نہیں ہوں گے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مومن اور کافر سب دوزخ میں داخل ہوں گے، تیسرا قول یہ ہے کہ دوزخ میں دخول سے مراد سب کا پل صراط سے گزرنا ہے، چوتھا فولء یہ ہے کہ سب دوزخ کے قریب سے دوزخ کو دیکھیں گے اور پانچواں قول یہ ہے کہ مسلمانوں پر جو دنیا میں بخار آتا ہے یا دیگر مصائب آتے ہیں وہ ان کے دوزخ میں داخل ہونے کے عوض ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 71