أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا ؕ‏ ۞

ترجمہ:

اور کافروں نے کہا رحمٰن نے (اپنی) اولاد بنا لی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کافروں نے کہا رحمٰن نے (اپنی) اولاد بنا لی ہے بیشک تم نے بہت سخت بات کہی ہے قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں کہ انہوں نے رحمٰن کے لئے اولاد کا دعویٰ کیا رحمٰن کے یہ لائق نہیں ہے کہ ہو کسی کو بیٹا بنائے آسمانوں اور زمینوں میں سے ہر ایک رحمٰن کے سامنے طور بندہ حاض رہو گا اللہ نے ان سب کا احاطہ کرلیا ہے اور ان کو گن لیا ہے اور قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک اس کے سامنے تنہا پیش ہوگا (مریم :88-95)

ان کافروں کی مذمت جنہوں نے رحمن کے لئے بیٹا گھڑ لیا 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کرنے والوں کا رد فرمایا تھا اور ان آیات میں اب ان کافروں کا رد فرما رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد مانتے تھے یہود کہتے تھے عزیز اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ کہتے تھے کہ المسیح اللہ کے بیٹے ہیں (التوبتہ :30) اور مشرکین عرب کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا لقد جن تم شیئا ادا، بیشک تم نے بہت سخت بات کہی ہے، علامہ راغب نے کہا ہے کہ ” ادا “ کا معنی ہے ایسا برا کام جس کے کرنے سے شور مچ جائے اور ابن خالویہ نے کہا تعجب خیز بات، یعنی رحمٰن کا بیٹا کہنا ایسا برا کلمہ ہے جس کے کہنے سے شور مچ جائے یا جس پر لوگ بہت تعجب کریں۔

” ھدا “ کا معنی ہے دیوار گرنے کی آواز، تخر اور ھدا دونوں کا معنی گرنا ہے اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹے کا قول کرنا اللہ تعالیٰ کو سخت غضب میں لانے والی بات ہے، اگر اللہ تعالیٰ حلیم نہ ہوتا اور اس نے اپنے عذاب کو مئوخر نہ کیا ہوتا تو اس بات کے سبب وہ ایسا عذاب بھیجتا کہ آسمان پھٹ جاتا، زمین شق ہوجاتی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتے۔

کہ انہوں نے رحمٰن کے لئے اولاد کا دعویٰ کیا الی آخرالایات۔ حافظ ابن کثیر نے اس کی تفسیر میں لکھا :

امام ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ اہل شام میں سے ایک شخص نے مسجد منیٰ میں مجھ سے بیان کیا مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا اور زمین میں درختوں کو پیدا کیا تو بنو آدم جس درخت کے پاس بھی جاتے تھے تو اس سے کوئی فائدہ اٹھاتے تھے اور وہ اسی طرح زمین اور درختوں سے فائدے اٹھاتے رہے حتیٰ کہ بنو آدم میں سے بعض فاجروں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، اس کلمہ کو سن کر زمین کا نپنے لگی اور درختوں میں کانٹے پیدا ہوگئے۔ کعب احبار نے کہا فرشتے غضب میں آگئے اور جہنم بھڑکنے لگا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ١٥٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1419 ھ)

امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوموسیٰ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اذیت ناک باتوں کو سن کر اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی صبر کرنے والا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے اور اس کے لئے بیٹا کھڑ لیا جاتا ہے اس کے باوجود وہ لوگوں کو عافیت کے ساتھ رکھتا ہے اور ان سے مصائب کو دور کرتا ہے اور ان کو رزق دیتا ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص 405، قدیم مسند احمد رقم الحدیث 19419 طبع دارالحدیث قاہرہ، صحیح البخاری رقم الحدیث :7378، صحیح مسلم رقم الحدیث 284، مسند الحمیدی رقم الحدیث :774)

رحمٰن کے یہ لائق نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے یعنی اللہ کی عظمت اور جلال کے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے کیونکہ مخلوق میں سے کوئی اس کا کفو نہیں ہے، کیونکہ تمام مخلوق اس کی مملوک اور اس کی غلام ہے اسی لئے اس نے فرمایا آسمانوں اور زمینوں میں سے ہر ایک رحمٰن کے سامنے بہ طور بندہ حاضر ہوگا اللہ نے اسب کا احاطہ کرلیا ہے اور ان کو گن لیا ہے یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہی اور قیامت تک جن کو پیدا کرتا رہے گا وہ ان سب کی تعداد کو جانتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ ان میں کتنے مذکر اور کتنے مونث ہیں، کتنے بچے ہیں اور کتنے بڑے، وہ ان کی زندی کے تمام حالات اور واقعات اور مرنے کے بعد ان کی جزاء اور سزا سب کو تفصیل سے جانتا ہے اور قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک اس کے سامنے تنہا پیش ہوگا یعنی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کا کوئی مددگار نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو کوئی پناہ دینے والا نہیں ہوگا وہ اپنی مخلوق میں جو چاہے گا وہ حکم دے گا وہ عادل ہے کسی پر ایک ذرہ کے برابر ظلم نہیں کرتا اور رحیم و کریم اور نہایت فضل کرنے والا ہے سو وہ اپنے رحم اور فضل سے اپنے بےحساب بندوں کو بخش دے گا جن کا دامن شرک سے آلودہ نہیں رہے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 88