أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍؕ هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزًا۞

 ترجمہ:

اور ہم اس سے پہلے کتنی صدیوں کے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں کیا آپ ان سے کسی کو دیکھتے ہیں یا ان میں سے کسی کی آہٹ سنتے ہیں

” رکز “ کا معنی 

مریم :98 میں فرمایا : ہم اس سے پہلے کتنی صدیوں کے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں یعنی لوگوں کے کتنے گروہوں کو، اس آیت سے اہل مکہ کو ڈرانے کا قصد کیا گیا ہے۔

پھر فرمایا : کیا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں یا کسی کی آواز سنتے ہیں ؟ اس آیت میں ” رکز “ کا لفظ ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کا معنی آواز ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا جو آواز یا حرکت سمجھ نہ آئے اس کو ” رکز “ کہتے ہیں۔ پست اور مخفی آواز کو بھی ” ر کر “ کہتے ہیں اور مدفون مال کو رکاز کہتے ہیں۔

اختتامی کلمات اور دعا 

الحمد اللہ علی احسانہ آج ٥ محرم الحرام 1422 ھ، 31 مارچ 2001 ء بروز ہفتہ بعد نماز فجر سورة مریم کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ الہ العلمین ! اے میرے رب جس طرح آپ نے اس سورت کو مکمل کرا دیا ہے باقی سورتوں کی تفسیر کو بھی مکمل کرا دیں، آپ نے مجھے اس کام کی تکمیل کے لئے بہت کتابیں عطا کیں، الہ العلمین ! میری ضرورت کی دیگر کتابوں کو بھی عطا فرمائیں، آپ نے مجھے بہت صحت اور توانائی عطا فرمائی ہے، اے میرے رب ! آپ اس صحت اور توانائی کو برقرار رکھیں اور مجھے مزید صحت اور توانائی عطا فرمائیں، تادم مرگ چلتا پھر تارکھیں بس اپنا محتاج رکھیں، مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہ کریں۔ ایمان پر قائم رکھیں اے میرے رب ! آپ نے مجھے ایمان دیا اور اعمال صالحہ دیئے یہ آپ کا بہت کرم ہے۔ آپ میرے ایمان کو اور مضبوط کردیں اور مجھے مزید اعمال صالحہ عطا فرمائیں، آپ نے مجھے گناہوں سے بچایا اے میرے رب ! مجھے بقیہ آخری عمر میں بھی گناہوں سے بچائے رکھیں، میں بیمار پڑگیا کسی چیز کے لکھنے کی توقع نہ رہی آپ نے مجھ سے حدیث اور تفسیر کی بہت کتابیں لکھوا لیں۔ میں اس کرم کے کہاں تھا لائق یہ سب آپ کی عنایت اور آپ کا احسان ہے۔ اے میرے رب اس احسان اور کرم کو برقرار اور جاری رکھیں اور اس میں یوماً فیوماً ترقی فرمائیں، میری لکھی ہوئی تمام کتابوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں، اپنے محبوب اور میرے آقا سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں قبمول بنادیں تمام مسلمانوں کے نزدیک مقبول بنادیں۔ ان کتابوں کو مفید، مفیض اور مئوثر بنادیں، الہ العلمین اے میرے رب میری تمام کتابوں کو مخالفین کے شر اور فساد سے محفوظ اور مامون بنادیں !

میں کیا ہوں اور میرا کام کیا ہے ! آپ محض اپنے فضل سے میری مغفرت کردیں میرے گناہوں کو بخش دیں، میرے آقا اور اپنے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت عطا فرمائیں۔ دنیا کے مصائب، قبر اور حشر اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ اور مامون رکھیں۔ میری اس کتاب کے کمپوزر، اس کے مصحح، اس کے ناشر اور اس کتاب کے پڑھنے ولاوں کی مغفرت فرمائیں۔ 

میرے والدین میرے اساتذہ میرے احباب، میرے قرابت دار اور جمہ مسلمین کو بخش دیں۔ اے میرے رب ! قیامت کے کے دن مجھے شرمندہ نہ کرنا، میری عزت رکھنا مجھے سرخرو اٹھانا اور علماء صالحین، مفسرین، محدثین اور فقراء مجتہدین کے زمرہ میں میرا حشر کرنا اور جنت الفردوس عطا کرنا اور مجھے اپنی رضا سے نوازنا !

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبین سیدالمرسلین، قائد الغر المحجدین شفیع المذنبین و علی الہ الطییبین و اصنحابہ الراشدین وعلی ازواجہ الطاھرات امھات المومنین و علی علماء ملتہ واولیاء امتہ و علی سائر السلمین اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 98