أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ اُخۡرَجُ حَيًّا ۞

ترجمہ:

اور انسان کتہا ہے کہ جب میں مرجائوں گا تو کیا میں ضرور عنقریب زندہ کر کے (قبر سے) نکالا جائوں گا ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جائوں گا تو کیا میں ضرور عنقریب زندہ کر کے (قبر سے) نکالا جائوں گا اور کیا انسان یہ یاد نہیں کرتا کہ اس سے پہلے بیشک ہم نے اس کو پیدا کیا تھا حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا سو آپ کے رب کی قسم ! ہم ضرور ان سب کو اور شیطانوں کو مع کریں گے، پھر ہم انہیں ضرور جہنم کے گرد گھنٹوں کے بل گرے ہوئے حاضر کریں گے پھر ہم ہر گروہ سے اس کو ضرور باہر نکال لیں گے جو رحمٰن پر سب سے زیادہ اکڑنے والا ہوگا پھر بیشک ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو جہنم میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں (مریم :66-70)

قیامت کے دن کفار کے حشر کی کیفیت 

انسان سے مراد وہ کافر ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جانے کی تصدیق نہیں کرتا، بعض مفسرین نے کہا اس سے مراد معین کافر ہے۔ پھر بعض نے کہا وہ ابوجہل ہے اور بعض نے کہا وہ ابی بن خلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرتے یہ یاد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو عدم سے وجود میں لایا تھا اور کسی چیز کو دوبارہ بنانا پہلی بار بنانے سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔

اس کے بعد فرمایا ہم ضرور ان سب کو اور شیطانوں کو جمع کریں گے، تمام لوگوں کا ایک ساتھ حشر کیا جائے گا اور کفار اور ان کو گمراہ کرنے والے شیاطین ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور مسلمانوں کا ان کے ساتھ ہی حشر ہوگا، لیکن ان کی یہ حالت نہیں ہوگی اور یہ اس لئے ہوگا کہ مسلمانوں کو کفار کی یہ رسوائی دیکھ کر خوشی ہو اور کافروں کو اور زیادہ غم ہو، ایک غم اس لئے ہو کہ ان کا ذلت کے ساتھ حشر ہو رہا ہے اور دوسرا غم اس لئے ہو کہ ان کے دشمن اور مخالف مسلمانوں کا حشر عزت کے ساتھ ہو رہا ہے، جب کہ کفار جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر ہوں گے، مجاہد اور قتادہ نے کہا وہ حشر کی ہولناکیوں اور شدت خوف کی وجہ سے سیدھے کھڑے نہ ہو سکیں گے اور گھٹنوں کے بل پڑے ہوں گے۔

اس کے بعد فرمایا : پھر ہم ہر گروہ سے اس کو ضرور باہر نکال لیں گے جو رحمٰن پر سب سے زیادہ اکڑنے والا ہوگا، اس آیت میں گروہ کے لئے شیعہ کا لفظ ہے اور شیعہ سے مراد عموماً وہ فرقہ اور وہ گروہ ہوتا ہے جس کی گمرایہ بہت زیادہ مشہور ہوچکی ہو۔ قرآن مجید میں ہے : 

ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعاً (الانعام :159) بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ گروہ درگروہ بن گئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پہلے تو اللہ تعالیٰ سب کافروں کو جہنم کے گرد جمع فرمائے گا پھر ان میں سے جو لوگ اپنے کفر میں زیادہ سرکش تھے ان کو دوسروں سے متمیز کر کے الگ کھڑا کر دے گا تاکہ ان کو ان کے تابعین اور مقلدین سے زیادہ عذاب دیا جائے، کیونکہ جو شخص لوگوں کے دلوں میں شبہات ڈال کر ان کو باطل پر اکساتا ہے اس کا عذاب ان لوگوں سے زیادہ ہوگا جو غفلت کی وجہ سے اس کی پیروی کرتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

(النحل :88) جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسرے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہم ان کے عاب پر مزید عذاب کو زیادہ کریں گے کیونکہ وہ فساد پھیلاتے تھے۔

اس لئے فرمایا کہ کہ گمراہ لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ کے خلاف زیادہ سرکشی کرتے تھے ہم ان کو دوسروں سے الگ اور ممتاز کرلیں گے تاکہ معلوم ہو کہ ان کا عذاب دوسروں سے زیادہ ہوگا۔ پھر متبوع اور تابع ہر ایک کے متعلق فرمایا : پھر بیشک ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو جہنم میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔ ینی جو دوزخ میں داخل ہونے کے مستحق ہیں، اس آیت میں ’ دصلیا “ کا لفظ ہے اور ’ دصلیا “ کا معنی ہے گزرنا جوہری نے کہا جب کسی شخص کو دوزخ میں پھینک کر اس میں داخل کیا جائے تو اس وقت یہ لفظ بولا جاتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 66