أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًا‌ ۞

ترجمہ:

جس دن ہم متقین کو رحمٰن کی طرف سواریوں پر بھیجیں گے

تفسیر:

محشر میں مومنین کا سواریوں پر سوار ہو کر جنت کی طرف جانا 

مریم :85 میں مذکور ہے : جس دن ہم متقین کو رحمٰن کی طرف یعنی رحمٰن کی جنتوں کی طرف سواریوں پر بھیجیں گے۔ وفد کا معنی ہے امیر کے پاس جانے والے لوگ (مختار الصحاح) جو لوگ بادشاہوں کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے جائیں ان کو وفد کہتے ہیں صالمفردات) ابن جریج نے کہا متقین رحمٰن کی جنتوں کی طرف سواریوں پر سوار ہو کر جائیں گے کیونکہ عموماً کسی کے پاس وفد سواریوں پر سوار ہو کرجاتا ہے۔

حضرت علی (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا سنو ! اللہ کی قسم ! یہ لوگ پیدال نہیں جائیں گے اور نہ ان کو ہنکایا جائے گا لیکن یہ ایسی اونٹینوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق نے ان جیسی اونٹنیاں نہیں دیکھی ہوں گی، ان کے پالان سونے کے ہوں گے اور ان کی مہاریں زمرد کی ہوں گی وہ ان پر سواری کریں گے حتیٰ کہ جنت کے دروازوں تک پہنچ جائیں گے۔ جامع البیان رقم الحدیث، 18036 مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث :34003 المستدرک رقم الحدیث :3477 مجمع الزوائد ج ٧ ص ٥ ز تاریخ بغداد ج ٣ ص 140 اس کی سند میں عبدالرحمٰن ضعیف ہے)

عمرو بن قیس ملائی بیان کرتے ہیں کہ مومن جب قبر سے نکلے گا تو ایک حسین اور خوشبو دار صورت اس کا استقبال کرے گی اور مومن سے کہے گی کہ کیا تو مجھے پہچانتا ہے مومن کہے گا نہیں بیشک اللہ نے تجھے بہت پاکیزہ خوشبودی اور تیری بہت حسین صورت بنائی تو وہ صورت کہے گی، تو بھی دنیا میں اسی طرح تھا میں تیرا نیک عمل ہوں، میں دنیا میں بہت عرصہ تک تجھ پر سوار رہا آج تو مجھ پر سوار ہوجا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی یوم نحشر المتقین الی الرحمٰن و فدا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18039، تفسیر السمعانی ج ٣ ص 314)

اور کافر کا استقبال اس کا عمل بدصورت اور بدبو دار حالت میں کرتا ہے اور کہتا ہے تو مجھے پہچانتا ہے وہ کہتا ہے نہیں مگر یہ کہ تجھے اللہ نے بہت بدصورت اور بہت بدبو دار بنایا ہے، وہ کہے گا تو بھی دنیا میں اسی طرح تھا، میں تیرا برا عمل ہوں، تو بہت عرصہ دنیا میں مجھ پر سوار رہا آج میں تجھ پر سواری کروں گا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 73، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 19 مريم آیت نمبر 85