فَلَمَّا اسْتَیْــٴَـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّاؕ-قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَۚ-فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ(۸۰)

پھر جب اس سے ناامید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ (ف۱۸۵)مجھے اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے (ف۱۸۶) اور اس کا حکم سب سے بہتر

(ف185)

میرے واپس آنے کی ۔

(ف186)

میرے بھائی کو خلاصی دے کر یا اس کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ چلنے کا ۔

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَۚ-وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ(۸۱)

اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بےشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (ف۱۸۷) اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی (ف۱۸۸) اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (ف۱۸۹)

(ف187)

یعنی ان کی طرف چوری کی نسبت کی گئی ۔

(ف188)

کہ پیالہ ان کے کجاوہ میں نکلا ۔

(ف189)

اور ہمیں خبر نہ تھی کہ یہ صورت پیش آئے گی ، حقیقتِ حال اللہ ہی جانے کہ کیا ہے اور پیالہ کس طرح بنیامین کے ساما ن سے برآمد ہوا ۔

وَ سْــٴَـلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَاؕ-وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ(۸۲)

اور اس بستی سے پوچھ دیکھئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے اور ہم بےشک سچے ہیں (ف۱۹۰)

(ف190)

پھر یہ لوگ اپنے والد کے پاس واپس آئے اور سفر میں جو کچھ پیش آیا تھا اس کی خبر دی اور بڑے بھائی نے جو کچھ بتا دیا تھا وہ سب والد سے عرض کیا ۔

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ-فَصَبْرٌ جَمِیْلٌؕ-عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۸۳)

کہا (ف۱۹۱) تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا تو اچھا صبر ہے قریب ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے (ف۱۹۲) بےشک و ہی علم و حکمت والا ہے

(ف191)

حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہ چوری کی نسبت بنیامین کی طرف غلط ہے اور چوری کی سزا غلام بنانا ، یہ بھی کوئی کیا جانے اگر تم فتوٰی نہ دیتے اور تمہیں نہ بتاتے تو ۔

(ف192)

یعنی حضرت یوسف کو اور ان کے دونوں بھائیوں کو ۔

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ(۸۴)

اور ان سے منہ پھیرا (ف۱۹۳) اور کہا ہائے افسوس یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں (ف۱۹۴) تو وہ غصہ کھاتا رہا (ف۱۹۵)

(ف193)

حضرت یعقوب علیہ السلام نے بنیامین کی خبر سن کر اور آپ کا غم و اندوہ انتہا کو پہنچ گیا ۔

(ف194)

روتے روتے آنکھ کی سیاہی کا رنگ جاتا رہا اور بینائی ضعیف ہو گئی ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ السلام اسّی۸۰ برس روتے رہے اور احباء کے غم میں رونا جو تکلیف اور نمائش سے نہ ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی شکایت و بے صبری نہ پائی جائے رحمت ہے ۔ ان غم کے ایام میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبانِ مبارک پر کبھی کوئی کلمہ بے صبری کا نہ آیا ۔

(ف195)

برادرانِ یوسف اپنے والد سے ۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ(۸۵)

بولے خدا کی قسم آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گور کنارے(موت کے قریب) جالگیں یا جان سے گزر جائیں

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸۶)

کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں (ف۱۹۶) اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۱۹۷)

(ف196)

تم سے یا اور کسی سے نہیں ۔

(ف197)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام جانتے تھے کہ یوسف علیہ السلام زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کا خواب حق ہے ، ضرور واقع ہوگا ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت مَلَک الموت سے دریافت کیا کہ تم نے میرے بیٹے یوسف کی روح قبض کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، اس سے بھی آپ کو ان کی زندگانی کا اطمینان ہوا اور آپ نے اپنے فرزندوں سے فرمایا ۔

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْــٴَـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ(۸۷)

اے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوبےشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ (ف۱۹۸)

(ف198)

یہ سن کر برادرانِ حضرت یوسف علیہ السلام پھر مِصر کی طرف روانہ ہوئے ۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ(۸۸)

پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی (ف۱۹۹) اور ہم بے قدر پونجی لے کر آئے ہیں (ف۲۰۰) تو آپ ہمیں پوراماپ دیجئے (ف۲۰۱) اور ہم پر خیرات کیجئے (ف۲۰۲) بےشک اللہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے (ف۲۰۳)

(ف199)

یعنی تنگی اور بھوک کی سختی اور جسموں کا دبلا ہو جانا ۔

(ف200)

ردی کھوٹی جسے کوئی سوداگر مال کی قیمت میں قبول نہ کرے وہ چند کھوٹے درہم تھے اور اثاث البیت کی چند پرانی بوسیدہ چیزیں ۔

(ف201)

جیسا کھرے داموں سے دیتے تھے ۔

(ف202)

یہ ناقص پونجی قبول کر کے ۔

(ف203)

ان کا یہ حال سن کر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام پر گریہ طاری ہوا اور چشمِ گوہر فشاں سے اشک رواں ہو گئے اور ۔

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ(۸۹)

بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے (ف۲۰۴)

(ف204)

یعنی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو مارنا ، کنوئیں میں گرانا ، بیچنا ، والد سے جدا کرنا اور ان کے بعد ان کے بھائی کو تنگ رکھنا ، پریشان کرنا تمہیں یاد ہے اور یہ فرماتے ہوئے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو تبسم آ گیا اور انہوں نے آپ کے گوہرِ دندان کا حسن دیکھ کر پہچانا کہ یہ تو جمالِ یوسفی کی شان ہے ۔

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُؕ-قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ٘-قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَاؕ-اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۰)

بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بےشک اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۰۵) بےشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ(اَجر) ضائع نہیں کرتا (ف۲۰۶)

(ف205)

ہمیں جدائی کے بعد سلامتی کے ساتھ ملایا اور دنیا اور دین کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا ۔

(ف206)

برادرانِ حضرت یوسف علیہ السلام بہ طریقِ عذر خواہی ۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِـٕیْنَ(۹۱)

بولے خدا کی قسم بےشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بےشک ہم خطاوار تھے (ف۲۰۷)

(ف207)

اسی کا نتیجہ ہے کہ اللہ نے آپ کو عزّت دی ، بادشاہ بنایا اور ہمیں مسکین بنا کر آپ کے سامنے لایا ۔

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(۹۲)

کہا آج (ف۲۰۸) تم پر کچھ ملامت نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانو ں سے بڑھ کر مہربان ہے (ف۲۰۹)

(ف208)

اگرچہ ملامت کرنے کا دن ہے مگر میری جانب سے ۔

(ف209)

اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے اپنے والد ماجد کا حال دریافت کیا ، انہوں نے کہا آپ کی جدائی کے غم میں روتے روتے ان کی بینائی بحال نہیں رہی ، آپ نے فرمایا ۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًاۚ-وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠(۹۳)

میرا یہ کرتا لے جاؤ (ف۲۱۰) اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو اُن کی آنکھیں کُھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر (گھر والوں) کومیرے پاس لے آؤ

(ف210)

جو میرے والد ماجد نے تعویذ بنا کر میرے گلے میں ڈال دیا تھا ۔