أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ‌ؕ لَـهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى ۞

ترجمہ:

اللہ معبود ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، تمام اچھے نام اسی کے ہیں

اللہ کے واحد ہونے پر ایمان کے مدارج اور مراتب 

طہ : ٨ میں ہے : اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، پھر تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے سے انسان مسلمان ہوجاتا ہے اس پر دوزخ کے عذاب کا دوام حرام ہوجاتا ہے اور وہ دخول جنت کا مستحق ہوجاتا ہے۔ اس آیت کے پہلے جز میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کا بیان فرمایا ہے،

امام رازی نے لکھا ہے کہ توحید کے چار مراتب ہیں :

(١) زبان سے توحید کا اقرار کرنا

(٢) دل میں توحید کا اعتقاد رکھنا

(٣) دلائل سے اس اعتقاد کی تائید کرنا

(٤) بندہ بحر توحید میں اس طرح غرق ہوجائے کہ اس کے دل میں ماسوا اللہ تعالیٰ کی معرفت کے اور کوئی خیال نہ آئے۔

اگر کوئی شخص زبان سے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرے اور اس کا دل اس کے اعتقاد سے خالی ہو تو وہ منافق ہے اور اگر اس کے دل میں توحید کا اعتقاد ہو اور اس نے زبان سے توحید کا قارار نہ کیا ہو تو اس کی حسب ذیل صورتیں ہیں :

صورت اولی : ایک شخص نے دلائل میں غور و فکر کیا اور اس کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی معرفت ہوگئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ توحید کا اقرار کرتا اس کو موت آگئی۔ ایک قوم نے یہ کہا اس کا ایمان مکمل نہیں ہوا اور حق یہ ہے کہ اس کا ایمان مکمل ہوگیا کیونکہ جس چیز کا وہ مکلف تھا اس کو اس نے ادا کرلیا اور وقت کی مہلت نہ ملنے کی وجہ سے وہ کلمہ پڑھنے سے عاجز رہا، اور میں نے بعض کتابوں میں یہ پیڑھا ہے کہ ملک الموت کی پیشانی پر لا الہ الا اللہ لکھا ہوا ہے تاکہ جب مومن ملک الموت کی طرف دیکھے تو اس کو کلمہ پڑھنا یاد آجائے۔

صورت ثانیہ، ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا اور اس پر اتنا وقت گزر گیا جس میں وہ کلمہع پڑھ سکتا تھا، لیکن اس نے کوتاہی کی اس کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ امام غزالی نے یہ کہا کہ زبان دل کی ترجمان ہے، جب اس کے دل میں ایمان آچکا اور پھر اس نے زبان سے اقرار کرنے میں تقصیر کی تو یہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے میں کتواہی کرے، تو وہ کیسے اہل دوزخ میں سے ہوگا جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اس کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤) اور اس شخص کا دل تو ایمان سے بھرا ہوا ہے۔ اور بعض علماء نے یہ کہا کہ ایمان اور کفر امور شرعیہ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ جو شخص کلمہ نہ پھڑے وہ کافر ہے۔

صورت ثالثہ : جس نے دلائل میں غور و فکر کئے بغیر زبان سے اللہ کے واحد ہونے کا اقرار کیا اور دل میں اس کا اعتقاد رکھا تو یہ مقلد کا ایمان ہے اور اس کے صحیح ہونے میں اختلاف مشہور ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 12 مطبوعہ 1415 ھ)

مقلد کے ایمان کا صحیح ہونا 

میں کہتا ہوں کہ اس ایمان کے صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں ہے عہد صحابہ وتابعین سے لے کر آج تک کے نوے فیصد سے زیازدہ مسلمان اس لئے مسلمانا ہیں کہ ان کے ماں باپ مسلمان تھے، ان کے ماں باپ نے انہیں کلمہ پڑھایا اور اسلام کے بنیادی عقائد کی تعلیم دی اور اسلام کے احکام پر عمل کرایا، یہ اور بات ہے کہ بعد میں پڑھ لکھ کر ان میں سے بعض کو توحید و رسالت کے دلائل پر اطلاع ہوگئی لیکن ان میں بہ کثرت ایسے مسلمان ہیں کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ اللہ تعالیٰ کے واحد لاشریک ہونے پر کیا دلیل ہے تو وہ کوئی دلیل نہیں بتاسکیں گے، یا آپ ان سے پوچھیں کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے کی کیا دلیل ہے تو وہ آپ کو کوئی دلیل نہیں بتاسکیں گے۔ اس لئے یہ کہنا کہ مقلد کا ایمان صحیح نہیں ہے درصال بیشمار مسلمانوں کے ایمان کی نفی کرنا ہے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جو شخص اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے کا اعتراف کرتا یا آپ کی نبوت کا اقرار کرتا آپ اس سے یہ سوال نہیں کرتے تھے کہ تم کس دلیل سے اللہ کو واحد مانتے ہو یا کس دلیل سے مجھ کو نبی مانتے ہو۔

حضرت معاویہ بن الحکم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری ایک باندی تھی جو میری بکریاں چراتی تھیں ایک دن میں اس کے پاس گیا اور میری بکریوں میں سے ایک بکری نہیں تھی میں نے اس سے اس بکری کے متعلق سوال کیا اس نے بتایا کہ اس کو ایک بھیڑیا کھا گیا، اور میں بھی بنو آدم سے ہوں، میں نے اس کے چہرے پر ایک تھپڑ مارا اور میرے ذمہ ایک غلام کو آزاد کرنا ہے کیا میں اس باندی کو آزاد کردوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس باندی سے پوچھا اللہ کہاں ہے اس نے کہا آسمان میں، پھر آپ نے پوچھا میں کون ہوں ؟ اس نے کہا آپ رسول اللہ ہیں، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو آزاد کردو۔ (مئوطا امام مالک رقم الحدیث :1434، صحیح مسلم رقم الحدیث :537، سنن ابو دائود رقم الحدیث :930، 3282، 3909، سنن النسائی رقم الحدیث :1219، مسند احمد ج ٣ ص 452 مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث، 16814 مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص 20 سنن کبریٰ ج 10 ص 57 شرح السنتہ ج ٩ ص 246)

حضرت عتبہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک سیاہ فام باندی لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میرے ذمہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہے، اگر آپ کے نزدیک یہ باندی مومنہ ہو تو میں اس کو آزاد کر دوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اس نے کہا ہاں ! آپ نے پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتی ہو کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، آپ نے پوچھا کیا تم مرنے کے بعد اٹھنے پر یقین رکھتی ہو اس نے کہا ہاں، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو آزاد کردو۔ (مئوطا امام مالک رقم الحدیث : 1535، مسند احمد ج ٣ ص 451-452)

ان دونوں حدیثوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان باندیوں سے صرف کلمہ سن کر ان کو مومنہ قرار دیا، اور آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کس دلیل سے اللہ کو واحد اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مانتی ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے مومن ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ دلائل سے اللہ اور رسول کو مانے۔

حافظ ابو عمر ابن عبدالبر مالکی متوفی 463 ھ لکھتے ہیں :

عطا بن ابی رباح نے کہا ہر وہ غلام جو اسلام میں پیدا ہوا ہو اس کو کافرہ میں آزاد کرنا درست ہے اور زاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے پوچھا آیا دودھ پیتے بچے کو کفارہ قتل میں آزاد کرنا درست ہے، انہوں نے کہا ہاں ! کیونکہ وہ فطرت پر پیدا ہوا ہے اور یہی اوزاعی کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا جب کسی غلام کے ماں باپ میں سے ایک مومن ہو تو اس کو کفارہ قتل میں آزاد کرنا جائز ہے، یہی امام شافعی کا بھی قول ہے مگر ان کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ وہ ایمان کی تصریح کرے، امام مالک نے یہ فرمایا کہ اس صورت میں اس کے باپ کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔

حافظ ابوعمر کہتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص مسلمان والدین کے ہاں پیدا ہوا ہو اور وہ اختیار اور تمبیز کی حد کو نہ پہنچا ہو تو وہ وراثت میں مسلمان اور مومن کے حکم میں ہے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ (الاستذ کا رج ٢٣ ص 173 مطبوعہ مئوستہ الرسالتہ بیروت، 1414 ھ)

نیز حفاظ ابن عبدالبر مالکی متوفی 463 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جس شخص نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دی وہ مومن ہے جب کہ وہ اس کے دل سے تصدیق کرتا ہو اور زبان سے اس کا اظہار کرتا ہو خواہ وہ روزہ رکھتا ہو نہ نماز پڑھتا ہو، اور اسی طرح وہ بچہ جو مسلمان ماں باپ کے درمیان رہتا ہو، کیونکہ اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس باندی سے اس شہادت کے سوا اور کسی چیز کا سوال نہیں کیا۔ (التمہید ج ٤ ص 119 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1419 ھ فتح المالک ج ٨ ص 442، مطبوعہ بیروت، 1418 ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی 676 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کافر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے اقرار کے بغیر مومن نہیں ہوتا اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ جس شخص نے ان دونوں شہادتوں کا اقرار کیا اور اس پر مضبوط یقین رکھا وہ اس کے ایمان کی صحت کے لئے کافی ہے اور اس کے اہل قبلہ اور اہل جنت سے ہونے کے لئے بھی کافی ہے اور اس کو اس کا مکلف نہیں کیا جائے گا کہ وہ اس اعتقاد کو دلیل اور برہان سے بھی ثابت کرے اور نہ اس پر یہ الزم ہے کہ وہ اس کی دلیل کو جانے اور یہی صحیح مذہب یہ جس پر جمہور ہیں۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٣ ص 1810 مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

لا الہ الا اللہ پڑھنے کی فضیلت میں احادیث 

طہ : ٨ میں ہے لا الہ الا ہو، اور ھو ضمیر اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے سو اس کا معنی ہے لا الہ الا اللہ اس لئے ہم یہاں پر لا الہ الا اللہ پڑھنے کے فضائل کے متعلق احادیث کو بیان کر رہے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی زیادہ سعادت کون حاصل کرے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا یہی گمان تھا اے ابوہریرہ کہ اس کے متعلق تم سے پہلے مجھ سے کوئی سوال نہیں کرے گا، قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت وہ شخص حاصل کرے گا جس نے اخلاص قلب کے ساتھ کہا لا الہ الا اللہ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩٩، مسند احمد رقم الحدیث :8845، عالم الکتب)

حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ پوچھا گیا اخلاص کیا ہے فرمایا جن چیزوں کو اللہ نے حرام کیا ہے ان سے باز رہے۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :1257، مکتبہ المعارف ریاض، المعجم الکبیر رقم الحدیث :5074 الترغیب و الترہیب للمنذری رقم الحدیث :2253، مجمع الزوائد رقم الحدیث :18)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے ایمانوں کو تازہ کرو، کہا گیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اپنے ایمانوں کو کیسے تازہ کریں آپ نے فرمایا : بہ کثرت لا الہ الا اللہ پڑھو۔

(مسند احمد ج ٢ ص 359، الترغیب للمنذری رقم الحدیث :2260، حافظ منذری نے کہا یہ حدیث حسن ہے، حافظ الھیثمی نے کہا اس حدیث کو امام احمد اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور امام طبرانی کی سند کے راوی ثقہ ہیں مجمع الزوائد ج 10 ص 82) 

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے ایک ایسے کلمہ کا علم ہے اس کو جو شخص بھی دل سے پڑھے گا اور تادم مرگ اس پر قائم رہے گا اسکو دوزخ پر حرام کردیا جائے گا وہ کلمہ ہے لا الہ الا اللہ (المستدرک ج ١ ص 72) امام حاکم نے کہا اس حدیث کی سند امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطباق صحیح ہے۔

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت کی چابیاں لا الہ الا اللہ کی شہادت دینا ہے۔ (مسند احمد ج ٣ 340، اس حدیث کی سند میں اقنطاع ہے مجمع الزوائد ج ١ ص 16)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ افضل الذکر لا الہ الا اللہ ہے اور افضل الدعاء الحمد للہ ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3383، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3800 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :846، المستدرک ج ١ ص 503، 498، الاسماء و الصفات ج ١ ص 179)

حضرت انس (رض) باین کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت معاذ (رض) ایک پالان پر آگے پیچھے سوار تھے، آپ نے فرمایا : اے معالذ بن جبل ! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ! میں آپ کی اطاعت کے لئے حاضر ہوں۔ آپ نے اس طرح تین بار فرمایا تھا، پھر آپ نے فرمایا : جو شخص بھی صدق دل سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے گا اللہ اس کو دوزخ پر حرام کر دے گا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں گا تاکہ وہ خوش ہوجائیں گ ؟ آپ نے فرمایا : پھر وہ اسی پر اعتماد کرلیں گے۔ حضرت معاذ نے موت کے وقت گناہ سے بچنے کے لئے اس حدیث کو بیان کیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :128، صحیح مسلم رقم الحدیث :32، مسند احمد رقم الحدیث :13778)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حشر کے دن میری امت کے ایک شخص کو لوگوں کے درمیان سے بلایا جائے گا، اس کے سامنے اس کے گناہوں کے تئیس رجسٹر کھولے جائیں گے اور ہر رجسٹر منتہاء نظر تک ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو ؟ کیا میرے لکھنے والے محافظ فرشتوں نے تم پر کوئی ظلم کیا ہے ؟ وہ کہے گا نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارے پاس کوئی عذر ہے ؟ وہ کہے گا نہیں ! اے میرے رب ! اللہ فرمائے گا کیوں نہیں ! ہمارے پاس تمہاری ایک نیکی ہے بیشک آج تم پر کوئی ظمل نہیں ہوگا پھر ایک پرچی نکالی جائے گی جس میں کلھا ہوگا : اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھدان محمد اعبدہ و رسولہ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کو اپنے میزان میں رکھو، وہ بندہ کہے گا اے میرے رب ! ان رجسٹروں کے سامنے اس پر چی کا کیا وزن ہوگا۔ پس اللہ فرمائے گا بیشک تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس کے گناہوں کے رجسٹروں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور اس پرچی کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا پھر وہ رجسٹر میزان میں ہلکے ہوں گے اور وہ پرچی بھاری ہوگی اور اللہ کے نام کے سامنے کوئی چیز بھاری نہیں ہوسکتی۔ (یہ حدیث صحیح ہے سنن الترمذی رقم الحدیث :2639، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4300 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :225، المستدرک ج ١ ص 6)

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سفید چادر اوڑھے ہوئے سو رہے تھے، میں دوبارہ آیا تو آپ بیدار ہوچکے تھے، آپ نے فرمایا : جو بندہ بھی لا الہ الا اللہ کہے پھر اسی کلمہ پر مرجائے وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ میں نے عرض کیا اگر وہ زنا کرے، اگر وہ چوری کرے، آپ نے فرمایا : اگر وہ زنا کرے اور اگر وہ چوری کرے ! میں نے کہا اگر وہ زنا کرے اور اگر وہ چوری کرے، فرمایا اگر وہ زنا کرے اور اگر وہ چوری کرے، میں نے (تیسری بار) کہا اگر وہ زنا کرے اور اگر وہ چوری کرے آپ نے فرمایا : اگر وہ زنا کرے اور اگر وہ چوری کرے ابو ذر کی ناک کو خاک میں رگڑتے ہوئے۔ حضرت ابوذر جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو یہ کلمات ضرور کہتے تھے، امام بخارینے فرمایا یہ حدیث اس شخص پر محمول ہے جو مرتے وقت لا الہ الا اللہ پڑھے، یا موت سے پہلے جب بندہ توبہ کرے اور نادم ہوا اور کہے لا الہ الا اللہ تو اس کی مغفرت کردی جائے گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1237, 5827 صحیح مسلم رقم الحدیث :94، سنن النسائی رقم الحدیث :1116، مسند احمد رقم الحدیث :21744)

جو شخص فرائض کا تارک ہو اور محرمات کا مرتکب ہو آیا صرف کلمہ پڑھنے سے اس کی نجات ہوجائے گی۔

حافظ زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں :

اس قسم کی جو احادیث ہیں جن میں مذکور ہے جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا یا اس پر دوزخ کی آگ حرام ہوجائے گی۔ ان کے متعلق اساطین اھل علم نے یہ کہا ہے یہ ابتداء اسلام پر محمول ہیں جب اسلام کی دعوت صرف توحید کے اقرار کے لئے تھی پھر جب فرائض مقرر ہوگئی اور حدود متعین ہوگئیں تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور اس پر بہت زیادہ دلائل ہیں جن میں نماز، روزہ، زکوۃ اور حج ادا کرنے والے اور حرام کام کرنے والوں پر عذاب کی وعید کی گئی ہے۔ ضحاک، سفیان ثوری اور زہری وغیرہ کا یہی قول ہے، اور ایک جماعت نے یہ کہا کہ نسخ کا دعویٰ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ارکان دین اور فرائض اسلام میں سے ہر چیز توحید اور رسالت کی شہادت کے لوازم میں سے ہے، سو جس شخص نے کسی فرض کا انکار کرتے ہئے اس کو ادا نہیں کیا یا اس کو معمولی یا غریا ہم سمجھتے ہوئے اس کا ادا نہیں کیا ہم اس پر کفر کا حکم لگائیں گے اور یہ قول بھی صحت کے قریب ہے، اور ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ کلمہ توحید پڑھنا دخول جنت اور دوزخ سے نجات کا سبب ہے، بہ شرطی کہ وہ فرائض کو ادا کرے اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے اور اگر وہ فرائض ادا نہ کرے اور کبائر سے اجتناب نہ کرے تو کلمہ توحید پڑھنا دوزخ میں دخول سے مانع نہیں ہے۔ (الترغیب و الترہیب ج ٢ ص 390-391، مطبوعہ دارا بن کثیر بیروت، 1414 ھ)

جس شخص نے کلمہ توحید پڑھا اور فرائض ادا نہیں کئے اور کبائر کا ارتکاب کیا اس کے متعلق میری تحقیق یہ ہے کہ قرآن مجید کی بہت سی ایٓات اور بہت سی احادیث کو سامنے رکھ کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایسا شخص خواہ ابتداء جنت میں داخل نہ ہو لیکن وہ جنت میں بہرحال داخل ہوگا اور اس پر دوزخ کا خلود اور دوام نہیں ہوگا، رہا اس کا نیک عمل نہ کرنا اور برے کام کرنا تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل محض سے اس کے گناہوں کو بخش کر اس کو ابتداء جنت میں داخل کر دے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی شفاعت فرما دیں کیونکہ آپ نے فرمایا : میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :7439، سنن الترمذی رقم الحدیث :2436، مسند امد ج ٣ ص 213، سنن بیہقی ج ٨ ص 17، مجمع الزوائد ج 10 ص 378، مشکوۃ رقم الحدیث :5598 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2596 الترغیب و الترہیب ج ٤ ص 446 کنز العمال رقم الحدیث :39055) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دیگر انبیاء صلحاء یا علماء میں سے اسے کسی کی شفاعت نصیب ہوجائے، یا دنیا میں جو اس پر مصائب ڈالے گئے تھے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائیں اور اگر بالفرض وہ ان تمام مراحل سے محروم رہے تو بہرحال یہ یقینی امر ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر پھر جنت میں داخل ہوجائے گا لیکن وہ جنت میں داخل ضرور ہوگا اور دوام اور خلود کے ساتھ دوزخ میں نہیں رہے گا، اور یہی ان احادیث کا منشا اور محمل ہے اور امام بخاری نے جو فرمایا ہے کہ جو شخص گناہ کرنے کے بعد نادم اور تائب ہو یا جو مرتے وقت کلمہ پڑھ لے وہ بھی ان احادیث کا بہت عمدہ محمل ہے۔

اسماء حسنیٰ

اس کے بعد فرمایا : تمام اچھے نام اسی کے ہیں : (طہ : ٨)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء ہیں جس نے ان کو شمار کرلیا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث، 2736، صحیح مسلم رقم الحدیث :2677)

ان اسماء کا تفصیل سے ذکر جامع ترمذی رقم الحدیث :3518 میں ہے۔

ہم نے اس آیت کی مکمل اور جامع تفسیرالاعراف :180 میں کی ہے۔ دیکھیے تبیان القرآن ج ٤ ص 424-432 وہاں ہم نے ان عنوانات پر بحث کی ہے : اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کا معنی، اسم مسمی کا عین ہے یا غیر، اللہ تعالیٰ کے اسماء کے توقیفی ہونے کی تحقیق، اسم عظیم کی تحقیق، اللہ تعالیٰ کے اسماء میں احلاد کی تفصیل، اللہ تعالیٰ کے اسماء کے توقیفی ہونے پر مذاہب اربعہ۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 8