أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ۞

ترجمہ:

یہ صرف ان کے لئے نصیحت ہے جو (اللہ سے) ڈرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ صرف ان کے لئے نصیحت ہے جو (اللہ سے) ڈرتے ہیں اس کو نازل کرنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمینوں کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا جو رحمٰن ہے اور (اپنی شان کے لائق) عرش پر جلوہ فرما ہے اسی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور ان کے درمیان میں ہے اور زمین کی تہہ میں ہے اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بیشک وہ آہستہ اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اللہ معبود ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں تمام اچھے نام اسی کے ہیں (طہ :3-8)

صرف ڈرنے والوں کے لئے قرآن کی نصیحت ہونے کی توجیہ 

طہ، ٣ کا معنی ہے کہ ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ تبلیغ کے سلسلہ میں مشقت برداشت کریں اور تھکاوٹ اٹھائیں بلکہ ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل کیا ہے کہ آپ اس قرآن سے ان لوگوں کو نصیحت کریں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس پر یہ اعتراض کیا جائے گا کہ قرآن مجید کی نصیحت صرف ان لوگوں کے لئے کیوں خاص کی گئی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ فی نفسہ تو قرآن مجید سب کے لئے نصیحت ہے لیکن واقع میں اس قرآن سے نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے متعلق ایک جگہ فرمایا : ھدی للناس (البقرۃ 185) یہ قرآن تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور دوسری جگہ فرمایا ھدی للمتقین (البقرۃ : ٢) یہ قرآن متقین کے لئے ہدیات ہے، اس کا بھی یہی معنی ہے کہ ہرچند کہ قرآن کریم فی نفسہ تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے لیکن واقع میں اس سے ہدایت صرف متقین حاصل کرتے ہیں، اسی طرح ایک جگہ فرمایا :

(الفرقان : ١) وہ برکت والا ہے جس نے اپنے (مقدس) بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔

اس آیت میں فرمایا ہے آپ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والے ہیں، اور ایک اور آیت میں فرمایا :

وذکر فان الذکری تنفع المومنین (الذاریات : ٥٥) اور نصیحت کرتے رہئے بیشک یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی ؟

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام دنیا والوں کو نصیحت فرماتے تھے لیکن آپ کی نصیحت سے نفع ایمان والے ہی حاصل کرتے تھے اس لئے اس آیت میں بھی خصوصیت سے فرمایا کہ یہ قرآن صرف ان کے لئے نصیحت ہے جو (اللہ سے) ڈرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 3