أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَـةٌ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۢ بِمَا تَسۡعٰى‏ ۞

ترجمہ:

بیشک قیامت آنے والی ہے جس کو میں مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کی سعی کا صلہ دیا جائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک قیامت آنے والی ہے جس کو میں مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کی سعی کا صلہ دیا جائے پس آپ کو قیامت کے ماننے سے کوئی ایسا شخص نہ روک دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہو ورنہ آپ ہلاک ہوجائیں گے (طہ :15-16)

وقوع قیامت پر دلیل اور قیامت کو مخفی رکھنے کی حکمت 

اللہ تعالیٰ نے قیامت کو بھی مخفی رکھا ہے اور موت کے وقت کو بھی مخفی رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، پس اگر بندوں کو اپنی موت کا وقت معلوم ہوتا تو وہ آخر وقت تک برے اور ناجائز کرتے رہتے اور موت سے پانچ دس منٹ پہلے توبہ کرلیتے اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا اور وہ سزا پانے سے بچ جاتے، پس بندوں کو موت کے وقت پر مطلع کرنا دراصل ان کو معصیت کرنے پر ابھارنا ہوتا، اور یہ جائز نہیں ہے۔

اس کے بعد فرمایا تاکہ ہر شخص کو اس کے سعی کا صلہ دیا جائے۔ آیت کا یہ حصہ قیامت کے وقوع کی دلیل ہے کیونکہ قیامت کے وقوع کے بعد جزا اور سزا کا نظام قائم ہوگا اگر قیامت واقع نہ ہوتی تو اطاعت گزارنا فرمان سے اور نیکو کار بدکار سے ممتاز نہ ہوتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کا الفجار (ص 28) کیا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ہم ان کو ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یا ہم پرہیز گاروں کو بدکاروں کی مثل کردیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 15