عام دعوت حج

وَ اَذِّنْ فِیْ النَّاسِ بِالحَجِّ یَاتُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلیٰ کُلِّ ضَامِرٍ یَّاتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجّ ٍعَمِیْق ٍ (پ؍۱۷ع؍۱۱)

اور لوگوں میں حج کی عام ندا کر دے وہ تیرے پاس حاضر ہونگے پیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر کہ ہر دور کی راہ سے آتی ہیں۔ (کنز الایمان )

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ  نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو لوگوں کو حج کیلئے عام ندا کرنے کا حکم دیا۔ ذرا سوچیں اُس دور میں عام ندا کا حکم دیا جا رہاہے جوماڈرن ٹکنالوجی((MODERN TECHNOLOGY کا دور نہیں، نہ مائیک ایجاد ہوا تھا۔ نہ کمپیوٹر ((COMPUTERکی دریافت ہوئی تھی۔

ٹیلی ویژن ((TELEVISION کا وجود بھی نہیں تھا مگر فرمایا جارہا ہے کہ لوگ تیری دعوت پر پیدل،دبلے پتلے جانوروں پر سوار ہو کر آئیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مکہ سے بلند ہونے والی آواز سب کے کانوں تک کیسے پہنچے گی؟ دل کہتا ہے نادان جس خدا نے ندائے عام کا حکم دیا ہے وہی خدا آواز پہنچانے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ندا صرف زمین کے لوگوں نے ہی نہیں سنی بلکہ عالم ارواح میں ان روحوں کو بھی سنایا گیا اور وہاں بھی اپنی اپنی استعداد کے مطابق سب نے لبیک کہا،یہ ہے نبی کی آواز کی قوت، جب خلیل کی آواز کا یہ عالم ہے تو حبیبا کی آواز کا عالم کیا ہوگا! (سبحان اللہ !) اللہ  ہم سب کو حج مبرور کی سعادت عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم