أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنۡهَا مَنۡ لَّا يُؤۡمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوٰٮهُ فَتَرۡدٰى ۞

ترجمہ:

پس آپ کو قیامت کے ماننے سے کوئی اسا شخص نہ روک دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو، اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہو ورنہ آپ ہلاک ہو ائیں گے

طہ :16 کے دو محمل ہیں آپ کو نماز پڑھنے سے کوئی ایسا شخص نہ روکے جو نماز پر ایمان نہ رکھتا ہو، یہ اس صورت میں ہے جب عنھا کی ضمیر نماز کی طرف راجع ہو اور دوسرا محمل یہ ہے کہ آپ کو قیامت کے ماننے سے کوئی ایسا شخص نہ روک دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو، یہ اس صورت میں ہے جب کہ عنھا کی ضمیر قیامت کی طرف راجع ہو اور یہی صورت راجح ہے کیونکہ ضمیر کو اقرب کی طرف لوٹانا چاہیے، پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا ایک محمل یہ ہے کہ اس آیت میں ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہو اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب ہو اور یہی راجح ہے کیونکہ ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خطاب ہو رہا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 16