أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّاۤ اَتٰٮهَا نُوۡدِىَ يٰمُوۡسٰىؕ ۞

ترجمہ:

جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو انہیں پکارا گیا اے موسیٰ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو انہیں پکارا گیا اے موسیٰ ! بیشک میں ہی آپ کا رب ہوں، سو آپ اپنے جوتے اتار دیجیے، بیشک آپ مقدس میدان طویٰ میں ہیں اور میں نے آپ کو اپنی رسالت کے لئے چن لیا ہے، پس جو وحی کی جائے اس کو بہ غور سنئے بیشک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے تو آپ میری عبادت کیجیے اور میری یاد کے لئے نماز قائم کیجیے (طہ :11-14)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ندا کو سننا 

امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ نے وہب بن منبہ سے روایت کیا ہے :

جب درخت سے ندا کی گئی اے موسیٰ ! تو حضرت موسیٰ نے فوراً جواب دیا لبیک، حالانکہ ان کو یہ پتا نہیں تھا کہ ان کو کس نے پکارا ہے، لیکن ان کو اس آواز سے انس ہوگیا اس لئے انہوں نے بار بار لبیک کہا انہوں نے کہا میں آپ کی آواز سن رہا ہوں اور میں آپ کی جگہ کو نہیں دیکھ رہا آپ کہاں ہیں ؟ فرمایا میں تمہارے اوپر ہوں اور تمہارے ساتھ ہوں اور تمہارے قریب ہوں، جب حضرت موسیٰ نے یہ کلام سنا تو ان کو یقین ہوگیا کہ یہ کلام ان کے رب عزوجل کے سوا اور کسی کا نہیں ہے، سو انہوں نے اپنے رب پر یقین کرلیا پس انہوں نے کہا اے میرے معبود ! میں تیرا کلام سن رہا ہوں یا تیرے کسی رسول کا ؟ اللہ عزوجل نے فرمایا بلکہ میں ہی تم سے کلام کر رہا ہوں، تم میرے قریب ہو جائو، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر کھڑے ہوگئے ان کے کندھے کپکپا رہے تھے، ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے اور دل مضطرب تھا، حتیٰ کہ وہ اس درخت کے قریب کھڑے ہوگئے ان کے کندھے کپکپا رہے تھے، ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے اور دل مضطرب تھا، حتیٰ کہ وہ اس درخت کے قریبک ھڑے ہوگئے جس سے دنا آئی تھی۔ (کتاب الزھد ص 80 مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت 1414 ھ)

حضرت موسیٰ نے جس کلام کو سنا تھا اس کے سننے کی کیفیت

اس جگہ پر یہ بحث کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کلام سنا تھا اس کی کیا کیفیت تھی، امام اعشری نے کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کلام قدیم سنا تھا جس میں نہ کوئی حرف نہ کوئی آواز تھی۔ اگر یہ شبہ ہو کر بغیر آواز کے کلام کس طرح سنائی دے سکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اس وقت تک کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی جب تک اس کا کوئی رنگ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ بےرنگ ہے اور جنت میں اور حشر میں مومنوں کو دکھائی دے گا تو جس طرح وہ باوجود بےرنگ ہونے کے دکھائی دے سکتا ہے۔ اسی طرح اس کا کلام بغیر کسی آواز کے سنائی دے سکتا ہے اور ماوراء النھر کے علماء اہل سنت نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام قدیمہ ہے، لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو سنا تھا وہ کلام قدیم نہیں تھا وہ ایک آواز تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس درخت میں پیدا کردیا تھا اور انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے آگ کے پاس آنے پر ندا کو مرتب کیا ہے اور جو چیز کسی حادث پر مترب ہو وہ بھی حادث ہوتی ہے سو حضرت موسیٰ نے کلام قدیم نہیں سنا تھا کلام حادث سنا تھا اور رہے معتزلہ تو دور سے سے اللہ تعالیٰ کے کلام کے قائل ہی نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ندا کسی جسم میں پیدا کردی تھی مثلاً درخت میں یا کسی اور چیز میں ہمارے نزدیک اس بحث میں امام اشعری کا نظریہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔

حضرت موسیٰ کو کیسے یقین ہوا کہ یہ اللہ کا کلام ہے 

دوسری بحث یہ ہے کہ یہ ندا سن کر حضرت موسیٰ کو یہ کیسے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے، امام رازی کے نزدیک راجح یہ ہے کہ کسی فرشتہ نے حضرت موسیٰ کے سامنے اس پر کوئی معجزہ پیش کیا تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے، لیکن میرے نزدیک امام رازی کی یہ رائے صحیح نہیں ہے کیونکہ درخت سے ایک آگ کا ظاہر ہونا اور اس آگ سے ایک ندا کا سنائی دینا بجائے خود ایک معجزہ ہے۔ امام غزالی کی تقریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بداھتہ یہ علمعطا فرما دیا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ عام انسانوں کو اللہ تعالیٰ ادراک کے لئے صرف حواس اور عقل عطا فرماتا ہے جس کے ذریعہ وہ جان لیتے ہیں کہ یہ مثلاً گائے ہے یہ بیل ہے یہ زید ہے اور ان کی آوازوں سے بھی ان کی شناخت کرلیتے ہیں اور نبی اللہ تعالیٰ ان ذرائع ادراک کے علاوہ ایک اور قوت ادراک عطا فرماتا ہے جس سے وہ امور غیب کا ادراک کرلیتا ہے اور وہ پہچان لیتا ہے یہ انسان ہے یہ فرشتہ ہے اور یہ جنت ہے اور ان کی آوازوں سے بھی ان کی شناخت کرلیتا ہے، سو اس وقت ادراک سے حضرت موسیٰ نے جان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آواز ہے، امام رازی نے اس پر یہ اعترضا کیا ہے کہ اگر حضرت موسیٰ نے دلائل میں غو و فکر کئے بغیر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی وحدانیت کو جان لیا اور ان کو یہ علم اپنے وجدان سے بداھتہ حاصل ہوگیا تو پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت اور اس کی وحدانیت کو ماننے کے مکلف نہ رہے، اس لئے یہ ضروری ہے کہ یہ کیا جائے کہ حضرت موسیٰ کے سامنے اس پر معجزہ پیش کیا گیا اور وہ معجزہ دیکھ کر ایمان لائے، میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض اس لئے صحیح نہیں ہے کہ تمام متقدمین اور متاخرین کا اس پر اجماع ہے کہ نبی پیدائش مومن ہوتا ہے اور وہ ایک آن کے لئے بھی ایمان کے بغیر نہیں ہوتا ۔

نیز امام رازی نے یہ روایت بھی نقل کی ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ دیکھا کہ اس درخت سے آسمان یک طرف ایک اور نور جا رہا ہے اور انہوں نے فرشتوں کی تسبیح سنی تو انہوں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے پھر جب ان کو ندا کی گئی یا موسیٰ ! تو انہوں نے کہا لبیک میں آپ کی آواز تو سن رہا ہوں لیکن آپ کو دیکھ نہیں رہا ! آپ کہاں ہیں ؟ فرمایا میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہارے آگے ہوں اور تمہارے پیچھے ہوں اور تم کو محیط ہوں اور تم سے زیادہ تمہارے قریب ہوں، پھر ابلیس نے ان کے دل میں یہ شک ڈالا اور کہا تمہیں یہ یقین ہوگیا کہ تم اللہ کا کلام سن رہے ہو ؟ حضرت موسیٰ نے فرمایا کیونکہ میں اس کلام کو اپنے اوپر سے اور اپنے نیچے سے اور اپنے دائیں سے اور اپنے بائیں سے سن رہا ہوں جیسا کہ میں اپنے سامنے سے سن رہا ہوں پس مجھے یقین ہوگیا کہ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں۔ حضرت موسیٰ کا منشا یہ تھا کہ میں اپنے جسم کے تمام اجزاء اور تمام اعضاء سے یہ کلام سن رہا ہوں گویا کہ میرے جسم کا ہر عضو کان ہوگیا ہے۔ (تفسیر ج ٨ ص 16-17 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

امام رازی کے اس اقتباس سے بھی اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عام انسانوں سے زائد جو ایک قوت ادراک دی گی تھی انہوں نے اس سے جان لیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 11