أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰى‏ ۞

ترجمہ:

فرمایا اے موسیٰ اس کو ڈال دو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرمایا اے موسیٰ اس کو ڈال دو موسیٰ نے اس کو ڈال دیا تو اچانک وہ ایک دوڑتا ہوا سانپ تھا فرمایا اس کو پکڑ لو اور ڈرو مت، ہم ابھی اس کو پہلی حالت کی طرف لوٹا دیں گے اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ملا لیں تو وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا یہ دوسری نشانی ہے تاکہ ہم آپ کو اپنی بعض بڑی نشانیاں دکھائیں آپ فرعون کی طرف جائیے اس نے (بہت) سرکشی کی ہے (طہ : 19-24)

عصائے موسیٰ کی تاریخ حیثیت 

پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کیا پھر اللہ نے ان کو عصا اور یدبیضا کے دو معجزے عطا فرمائے تاکہ انہیں خود بھی اپنے نبی ہونے پر شرح صدر اور کامل بصیرت ہو اور جن کو وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دیں وہ بھی ان دو دلیلوں سے آپ کی نبوت کو پہچان لیں اور آپ کی تصدیق کریں۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کے سر پر دو شاخیں تھیں، اس عصا کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ یہ جنت کے درخت کا تھا، ایک قول یہ ہے کہ یہ حضرت جبریل نے لا کر آپ کو دیا تھا، ایک قول یہ ہے کہ جب آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس سے روزانہ ہونے لگے تو حضرت شعیب نے آپ کو یہ عصا دیا تھا اور درصال یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا عصا تھا جس کو وہ جنت سے لے کر آئے تھے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١ ۃ ص 110، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

عصا کو زمین پر ڈالنے وجوہ 

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا اے موسیٰ اس عصا کو زمین پر ڈال دیں، اس حکم کی حسب ذیل وجوہ ہیں۔

(١) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا اس عصا میں میرے اور بھی فائدے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا اور دکھایا کہ ہم نے اس میں جو فوائد رکھے ہیں وہ تمہارے وہم و گمان میں بھی نہ تھے کیونکہ زمین پر ڈالنے کے بعد وہ عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑا تو وہ پھر اسی طرح لکڑی کا عصا بن گیا۔

(٢) حضرت موسیٰ کے پائوں میں نعلین تھیں جن کی مدد سے وہ خطرہ کے وقت بھاگتے تھے اور ان کے ہاتھ میں عصا تھا جس کی مدد سے وہ کسی چیز کو حاصل کرتے تھے گویا نعلین خطرہ کو دور کرنے کے لئے اور عصا کسی چیز کی طلب کے لئے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نعلین اتار دو اور عصا زمین پر ڈال دو دنیا کی کسی چیز سے ڈرو نہ کسی چیز کی طرف رغبت کرو اور ہر چیز سے خالی الذہن ہو کر میری معرفت میں ڈوب جائو۔

(٣) حضرت موسیٰ نعلین ور عصا لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گئے تو ان کو بھی چھوڑنے کا حکم دیا، تو ہم جب اپنی خواہشات اور گناہوں کا بارلے کر اللہ کی بارگاہ میں نماز کے لئے کھیڑ ہوں گے تو ہم کیوں کر اس کا قرب حاصل کرسکیں گے۔

(٤) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بارگاہ میں پہنچے تو ہاتھ میں عصا تھا اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے تو آپ کے پاس کچھ نہ تھا اور نہ کسی چیز کی طرف آپ کی نظر اور توجہ تھی حتیٰ کہ آپ کے متعلق فرمایا : 

متازاغ البصر و ماطغنی (النجم :17) نہ (آپ کی) نظر بہکی نہ حد سے بڑھی۔

عصا کے سانپ بن جانے کی حکمتیں 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کو اللہ تعالیٰ نے دوڑتا ہوا سانپ بنادیا، اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) جب غیب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ندا کی گئی تو یہ بھی معجزہ تھا اور حضرت موسیٰ کو اپنے نبی ہونے کا یقین ہوگیا تھا لیکن اس میں یہ احتمال بھی تھا کہ ہوسکتا ہے یہ کسی جن یا فرشتہ کی آواز ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے لاٹھی کو سانپ بنادیا تاکہ آپ کا معجزہ ہر قسم کے شک اور شبہ سے پاک ہو اور آپ پوری بصیرت کے ساتھ قوم کو اللہ تعالیٰ پر اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دیں۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپ فرعون کے اس جانے سے پہلے عصا کے سانپ بن جانے کا مشاہدہ کرلیں تاکہ فرعون کے سامنے بےخوفی سے اپنا معجزہ پیش کرسکیں۔

(٣) حضرت موسیٰ اس سے پہلے تنگ دست تھے اور آپ کے پاس ظاہری عزت و وجاہت کی کوئی چیز نہ تھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے عصا میں یہ معجزہ رکھا تاکہ معلوم ہو کہ آپ اللہ کے نزدیک وجیہ ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ کی مدد اور نصرت فرمائے گا۔

حیۃ ثعبان اور جان کے معانی اور ان میں تطبیق 

اس آیت میں فرمایا ہے فاذاھی حیۃ تسعی اور ایک اور جگہ فرمایا ہے : فاذاھی ثعبان مبین (الاعراف :107) اور ایک اور جگہ فرمایا ہے فلما راھا تھترکانھا جان (النمل :10) حیتہ کا معنی سانپ ہے یہ اسم جنس ہے اور اس کا اطلاق چھوٹے اور بیڑ اور مذکر اور مونث سانپ پر ہوتا ہے اور ثعبان کا اطلاق بہت ڑے سانپ یا اژدھے پر کیا جاتا ہے اور جان کا اطلاق باریک سانپ پر کیا جاتا ہے۔ ثعبان اور جان میں منافات ہے اور ان میں تطبق اس طرح کی گئی ہے کہ جب ابتداء وہ لاٹھی سانپ بنی تھی وہ چھوٹا اور باریک سانپ تھا پھر بتدریج اس کا جسم پھول کر بڑا ہوگیا اور وہ اژدھا بن گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے جسم کے اعتبار سے اژدھا تھا اور اپنی حرکت کے اعتبار سے جان تھا۔

اس سانپ کی گھوڑے کی طرح ایال تھی اور اس کے دو جبڑوں میں چالیس ہاتھ کا فاصلہ تھا، وہ جس چیز کے پاس سے بھی گزرتا تھا اس کو کھا جاتا تھا حتیٰ کہ درختوں اور چٹانوں کو بھی کھا جاتا تھا، حتیٰ کہ حضرت موسیٰ نے اس کے منہ میں پتھر چبانے کی آواز سنی۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 27)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 19