أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ‌ ۖ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى‏ ۞

ترجمہ:

فرمایا اس کو پکڑ لو اور ڈرو مت، ہم ابھی اس کو پہلی حالت کی طرف لوٹا دیں گے

سانپ سے حضرت موسیٰ کے ڈرنے کی توجیہات 

طہ :21 میں فرمایا اس کو پکڑ لو اور ڈرو مت، ہم ابھی اس کو پہلی حالت کی طرف لوٹا دیتے ہیں :

اس پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اتنی کرامات سے نوازا تھا اور انہوں نے یہ جان لیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں تو پھر وہ سانپ سے کیوں ڈر گئے، اس کا جواب یہ ہے کہ اعنسان فطری طور پر حشرات الارض سے متنفر ہوتا ہے تو ان کا اژدھے سے بھاگنا فطری تقاضے کے اعتبار سے تھا۔ نیز حضرت موسیٰ کی جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اور جاہت تھی اور ان کی جو نبوت اور رسالت تھی یہ سب امور عقلیہ تھے اور بسا اوقات جب انسان پر خوف اور دہشت غالب ہو تو امور عقلیہ کی طرف توجہ نہیں ہوتی اور ہمیشہ وھم عقل پر غالب رہتا ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سانپ سے دہشت زدہ ہونا بشری تقاضے سے تھا۔ نیز اس سانپ سی آپ کا خوف زدہ ہونا آپ کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اگر آپ ساحر ہوتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ آپ کے کسی عمل کی وجہ سے لاٹھی سانپ بن گئی ہے تو پھر آپ نہ ڈرتے جیسا کہ فرعون کے جادوگروں نے جب رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپ بنادیا تو وہ نہیں ڈرے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ ان کے عمل کا نتیجہ ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سانپ کا اژدھا بن جان اس کے کسی عمل کا نتیجہ نہ تھا۔ آپ کو اس کے متعلق کوئی پیشگی علم تھا انہوں نے عصا کو زمین پر ڈالا تو وہ اژدھا بن گیا سو ان کا اس سے خوف زدہ ہونا ایک فطری عمل تھا۔ اس کا بعض علماء نے یہ جواب دیا کہ حضرت موسیٰ کو علم تھا کہ سانپ نے حضرت آدم کے ساتھ کیا عداوت کی تھی تو ان کو خوف ہوا کہ کہیں یہ سانپ ان کے ساتھ بھی دشمنی نہ کرے اور اس کا تیسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے ڈرو مت اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت موسیٰ سانپ سے ڈرے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا لاتطع الکافرین (الاحزاب : ١) آپ کافروں کی اطاعت نہ کریں۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ نے کافروں کی اطاعت کی ہو، باقی رہا یہ سوال کہ جب آپ سانپ سے ڈرے نہیں تو اللہ تعالیٰ نے کیوں فرمایا اور ڈرو مت، اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ حضرت موسیٰ ڈرے نہیں تھے لیکن یہ حال ایسا تھا کہ اس حال میں انسان ڈر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مقضائے حال کے اعتبار سے فرمایا ڈرو مت اور مقتضائے حال کے اعتبار سے آپ کے نہ ڈرنے کو ڈرنے کے مرتبہ میں نازل کر کے کلام فرمایا : جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) سے فرمایا :

ولاتخاطبنی فی الذین ظلموا انھم معرفون (ھود :37) اور ظالموں کے متعلق ہم سے کوئی بات نہ کریں کیونکہ وہ ضرور غرق کئے جائیں گے۔

حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ظالموں کے متعلق کوئی سفارش نہیں تھی لیکن حضرت نوح (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ ظالموں پر طوفان کا عذاب آنے والا ہے، اسی لئے حضرت نوح کو اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ ایمان والوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے جائیں تو اس حال کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان ظالموں کی سفارش کرتے کہ ان کو غرق ہونے سے بچا لیا جائے۔ پس ہرچند کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے سفارش نہیں کی تھی، لیکن چونکہ یہ موقع سفارش کرنے کا تھا اس لئے فرمایا تم ان ظالموں کے متعلق ہم سے کوئی بات نہ کرنا۔ اسی طرح ہرچند کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اژدھے کو دیکھ کر زہریلا جانور ہے اور یہ اپنے زہر سے لوگوں کو ہلاک کردیتا ہے اس لئے سانپ اور اژدھا اللہ تعالیٰ کی صفت قہر اور صفت غضب کے مظہر ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سانپ سے نہیں ڈرے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفت قہر اور غضب سے ڈرے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 22