حکایت نمبر318: نافرمان بیٹے کاعبرت ناک انجام

حضرتِ سیِّدُنا ابوحَازِم علیہ رحمۃ اللہ الدائم فرماتے ہیں: ”مجھے کسی شخص نے ایک عبرت ناک واقعہ کچھ یوں سنایا: ”ایک مرتبہ جنگل بیابان میں مجھے رات ہوگئی، ہر طر ف سناٹا طاری تھا، دُور دُور تک آبادی کا نام ونشان نہ تھا، کچھ دور دوجھو نپڑیاں نظر آئیں۔ میں نے وہاں پہنچ کر بلند آواز سے سلام کیا ۔ جھونپڑی سے ایک نوجوان عورت اور ایک بڑھیا باہر آئی۔ میں نے کہا:” میں مسافر ہوں ، کیا رات کے کھانے کو کچھ مل سکتا ہے؟” نوجوان عورت نے کہا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اس ویران جنگل میں ہمارے پاس ایسی کوئی چیز نہیں جس سے ضیافت کی جاسکے اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی حلال جانور ہے جسے ذبح کر کے تمہاری مہمانی کی جا سکے۔”
میں نے کہا: ” پھر تم دونوں اس ویران جنگل میں کس طر ح گزر بسر کرتی ہو ؟”اس نے کہا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا ،اس کے نیک بندوں اور مسافروں کے سہارے ہماری زندگی کے دن گزر رہے ہیں۔” یہ سن کرمیں وہاں سے کچھ دُور ایک جگہ ٹھہر گیا۔ جب آدھی رات گزرگئی تو اچانک ایک سمت سے گدھے کے چیخنے کی آواز آنے لگی۔ خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! صبح تک وہ آواز مجھے سنائی دیتی رہی، نیند مجھ سے کوسوں دورتھی ۔ میں نے وہ رات جاگ کر گزاری۔ صبح ہوتے ہی میں اس سمت چل دیا جہاں سے آواز آرہی تھی ، وہاں پہنچا تو ایک عجیب وغریب منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا، وہاں ایک قبر تھی جس میں ایک گدھا گردن تک دفن تھا۔ اس کے سر اور پیٹھ سے مِٹی ہٹ چکی تھی، اس بھیانک منظر کو دیکھ کر مجھ پر کپکپی طاری ہوئی گئی۔ میں وہاں سے واپس آگیا اور ان دونوں عورتوں کے پاس پہنچ کر گدھے اور قبر کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا:” اگر تم اس کے متعلق نہ پوچھو تو کیا حرج ہے ؟” میں نے کہا: ”میں اس بھیانک منظر کے متعلق ضرور دریافت کرو ں گا، برائے کرم! مجھے صورتحال سے آگاہ کرو۔”
عورت نے کہا:” اچھا! اگر تم سننا ہی چاہتے ہوتو سنو! خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ گدھا جو تم نے قبر میں دفن دیکھا ،وہ میرا شوہر اور اس بڑھیا کا بیٹا تھا ۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے گذشتہ رات تمہیں یہ منظر دکھایا! میرا یہ شوہر اپنی ماں کا بہت زیادہ نافرمان تھا۔ مَیں نے اس سے زیادہ ماں کا نافرمان دنیا میں کوئی نہ دیکھا۔ جب بھی اس کی ماں اسے کسی بری بات سے منع کرتی تو وہ اسے اس طر ح بد کلامی کرتا، اور کہتا:”دفع ہوجا! کیا گدھی کی طر ح چیخ وپکار کر رہی ہے،جا! مجھے تیری با ت نہیں سننی۔ ‘ ‘ آخر کار دکھیاری ماں نے تنگ آکرکہا، ” اللہ تعالیٰ تجھے گدھے کی طر ح بنادے۔” جب یہ نافرمان مرگیا تو ہم نے اسے دفنا دیا ۔ اس پاک پرودگار عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس نے ہمیں اس ویران جنگل کا مکین بنایا! جس دن ہم نے اسے دفنایا اسی دن سے یہ گدھے کی شکل اختیار گیا ۔ ماں کا نافرمان اور اپنی ماں کو گدھی کہنے والا اب روزانہ اپنی قبرمیں گدھے کی طر ح چیختا ہے اور ہر رات اس کی قبر سے یہ آواز سنائی دیتی ہے۔”(الامان و الحفیظ)
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو والدین کی نافرمانی سے محفوظ رکھے ۔(آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کتنا بد نصیب ہے وہ شخص جو اپنی ماں کو بُرا بھلا کہے اوروہ بھی اس بات پر کہ اسے برے کام سے کیوں منع کیا جا رہا ہے۔ ایسے نافرمانوں کا انجام بھی پھر ایسا بھیانک ہوتا ہے کہ زمانے کے لئے عبرت کی علامت بن جاتا ہے۔ بعض اوقات انسان کی عبرت کے لئے بر زخ کے مناظر ظاہر کر دیئے جاتے ہیں تا کہ گناہوں پر مُصِر رہنے والے اِن ہولناک مناظر سے عبرت حاصل کریں اور تو بہ کی طرف مائل ہوں۔ والدین کا مقام ومرتبہ دینِ اسلام نے بہت زیادہ معظَّم بنایا ، اللہو رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہمیں والدین کی اطا عت کا حکم دیا، بد بخت ونامراد ہے وہ شخص جس سے اس کے والدین ناراض ہوں۔ والدین کی ناراضگی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی ہے۔ والدین سے حسنِ سلوک کی بارہاتا کید کی گئی ہے بلکہ اُن کو ”اُف” تک کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ جو لوگ والدین کی نافرمانی کرتے ہیں وہ آخرت میں تو سزا کے مستحق ہیں ہی ،لیکن دنیا میں بھی انہیں نشانِ عبرت بنادیا جاتا ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں والدین کی نافرمانی سے محفوظ رکھے اور ان کا مطیع وفرمانبر دار بنائے ۔ )
( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)