أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ اٰيَةً اُخۡرٰىۙ ۞

ترجمہ:

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ملا لیں تو وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا، یہ دوسری نشانی ہے

یدبیضا اور عصا میں کون سا معجزہ زیادہ عظیم ہے۔

طہ : ٢٢ میں فرمایا اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ملا لیں تو وہ بغیر کسی عیب کے چمکتا ہوا نکلے گا، یہ دوسری نشانی ہے۔

قرآن مجید میں عیب کے لئے سو، کا لفظ ہے، سوء کا معنی ہے کسی چیز میں ردی چیز ہو جو اس میں فتح پیدا کر دے، لیکن یہاں اس سے مراد برص ہے اور عرب برص کو بہت برا جانتے تھے اس لئے اس کو کنایہ کے ساتھ تعبیر کیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت گندم گو وں رنگ کے تھے۔ جب انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کو بغل کے نیچے سے نکالا تو وہ بجلی کی طرح چمکتا ہوا تھا یا آفتاب کی طرح روشن تھا اور وہ برص کی طرح سفید نہ تھا اور جب وہ اس ہاتھ کو دو باہر اپنی بغل کے ساتھ ملاتے تو وہ پھر اسی طرح گندم گوں ہوجاتا۔

اس کے بعد فرمایا : تاکہ ہم آپ کو اپنی بعض بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں یعنی تم ہماری ان دو نشانیوں کو لے جائو تاکہ ہم تم کو اپنی اور بڑی نشانیاں دکھائیں۔ امام رازی نے فرمایا ہے کہ ید بیضا کی بہ نسبت عصا کا معجزہ زیادہ بڑا ہے کیونکہ ید بیضا کے معجزہ میں تو صرف رنگ کا تغیر ہے اور عصا کے معجزہ میں رنگ کا تغیر ہے اور جسم کا بڑا ہوا ہے، اور اس میں حیات، قدرت اور مختلف اعضاء کا پیدا کرنا ہے اور پتھروں اور درختوں کو نگلنا ہے اور پھر اس کا اسی طرح عصا بن جانا ہے لہٰذا عصا ان کا بہت عظیم معجزہ تھا۔

فرعون کی طرف جانے کا حکم دینا 

اس کے بعد فرمایا آپ فرعون کی طرف جایئے اس نے (بہت) سرکشی کی ہے۔ فرعون کی طرف بھیجنے کی علت یہ بیان فرمائی کہ اس نے بہت سرکشی کی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان سب کی طرف مبعوث تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ فرعون کی طرف بھیجنے کا ذکر فرمایا کیونکہ اس نے الوہیت کا دعویٰ کیا تھا اور وہ بہت متکبر تھا اور سب لوگ اس کی پیروی کرتے تھے اس لئے اس کا ذکر کرنا زیادہ لائق تھا۔

وھب بن منبہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا تم میرا کلام سنو اور میری وصیت کو یاد رکھو اور میرا پیغام لے کر جائو۔ تم میری آنکھوں اور کانوں کے سامنے ہو، میں تمہیں اپنی اس مخلوق کے پاس بھیج رہا ہو جو میری نعمتوں پر اترا رہی ہے اور میرے عذاب سے بےخوف ہے اس کو دنیا نے مغرور کردیا ہے حتیٰ کہ وہ میرے حق کو بھول گیا اور اس نے خدائی کا دعویٰ کردیا اور مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم اگر مجیھ اپنے عہد کا پاس نہ ہوتا تو میں اس کو فوراً اپنے عذاب میں جکڑ لیتا، لیکن میں نے نرمی کی تم اس کے پاس میرا پیغام لے کر جائو اس کو میری عبادت کی دعوت دو اور اس کو میرے عذاب سے ڈرائو اور اس کے ساتھ نریم سے بات کرنا، پھر حضرت موسیٰ سات دن تک خاموش رہے اور کسی یس بات نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا آپ کے رب نے جو حکم دیا ہے اس کا جواب دیں تو حضرت موسیٰ نے عرض کیا :

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 22