أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰى ۞

ترجمہ:

اور اے موسیٰ ! یہ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اے موسیٰ یہ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ موسیٰ نے کہا یہ میرا عصا ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں، اور میں اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئی فائدے ہیں (طہ 17-18)

اللہ تعالیٰ کے اس سوال کی حکمتیں کہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے 

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے تو پھر اس سوال کی کیا حکمت تھی، مفسرین نے اس سوال کی حسب ذیل حکمتیں بیان کی ہیں :

(١) جو شخص کسی معمولی چیز کی بہت عظیم افادیت اور اس کے بہت زیادہ منافع بتانا چاہتا ہو وہ پہلے حاضرین سے پوچھتا ہے کہ بتائو اس کے کیا فوائد ہیں اور جب وہ فوائد بتا چکتے ہیں تو وہ اس چیز کے اس سے بڑھ کر بہت عظیم اور کثیر فوائد بیان کرتا ہے۔ اس نہج پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے ان کے عصا کے متعق سوال کیا اور جب وہ اس کے فوائد بتا چکے تو اللہ تعالیٰ نے اس عصا کے غیر معملوی فوائد ظاہر کرنے کا ارادنہ فرمایا کہ یہ اعصا اژدھا بن جاتا ہے، اس کو سمندر پر مارو تو سمندر دو حصوں میں بٹ جاتا ہے اور اس کو پتھر پر مارو تو اس میں سے پانی نکل آتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا گیا تم اس لاٹھی کی حقیقت جانتے ہو جو تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے۔ بظاہر یہ ایک لکڑی ہے جس میں کوئی غیر معمولی خواص نہیں ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ال لاٹھی کو ایک عظیم اژدھا بنادیا اور اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عقلوں کو اپنی قدرت کا مہل اور عظمت بےنہایت پر متنبہ فرمایا، کیونکہ اس نے ایک معمولی چیز سے عظیم الشان کمالات کو ظاہر فرمایا۔

(٢) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ اسللام کو ان انوار پر مطلع کیا جو درخت سے آسمان کی طرف جا رہے تھے اور ان کو فرشتوں کی تسبیح سنائی پھر ان کو اپنا کلام سنایا، پھر پہلے ان کو اپنی رسالت کے لئے منتخب فرما کر ان پر لطف فرایا پھر ان کو مشکل احکام کا مکلف فرمایا پھر ان پر یہ لازم کیا کہ وہ جزا اور سزا کے دن کو یاد رکھیں، اور یہ کہ ہر شخص نے بہرحال لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے جہاں اس سے اس زندگی کا حساب لیا جائے گا، پھر وعید سنائی کہ جس نے اس دن کو نہ مانا یا اس کو یاد نہ رکھا وہ ہلاک ہوجائے گا اس وعید اور تہدید کو سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حیران اور دہشت زدہ ہوگئے۔ جیسے کوئی انسان بہت خوفناک دھمکی سن کر حواس باختہ ہوجاتا ہے تو حضرت موسیٰ کی حیرت اور ان کی دہشت کو دور کرنے کے لئے اور ان کو معمول پر لانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک آسان سوال کیا کہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ گویا کہ وہ اس قدر دہشت زدہ تھے کہ ان کو یہ بھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ ان کا دایاں ہاتھ کون سا ہے اور بایاں ہاتھ کون سا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا تاکہ ان کی دہشت زائل ہو کیونکہ جو انسان دہشت زدہ ہو جب اس کی توجہ دوسری طرف پھیر دی جائے تو اس کی دہشت زائل ہوجاتی ہے۔

(٣) جب اللہ کی بارگاہ میں حضرت موسیٰ کی دہشت بہت زیادہ ہوگئی تو اس کو زائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان سے عصا کے متعلق سوال کیا کیونکہ اس کے جواب میں وہ غلطی نہیں کرسکتے تھے، اسی طرح جب مومن اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انوار جلال کو دیکھ کر دہشت زدہ ہوجاتا ہے تو اس سے دنیا کے اس کلام کے متعلق سوال کیا جاتا ہے جس میں وہ غلطی نہیں کرسکتا تھا اور وہ توحید کے متعلق سوال ہے۔

(٤) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کمال الوہیت کی معرفت کرائی تو یہ ارادہ کیا کہ ان کو بشریت کی کمزوریوں پر مطلع کیا جائے، اس لئے ان سے لاٹھی کے متعلق سوال کیا اور جب حضرت موسیٰ نے اس لاٹھی کے بعض فوائد بتائے اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لاٹھی کے اس سے کہیں زیادہ عظیم فوائد پر انہیں مطلع کیا تو اس میں یہ تنبیہ کی کہ انسان کی عقلی تو جو چیز اس کے سامنے حاض رہو اس کے فوائد کو بھی نہیں جان سکتی تو جو اس سے زیادہ اعلیٰ اور اشرف اشیاء ہیں ان کے فوائد کا وہ کیسے ادراک کرسکتی ہے ماسوا اس کے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور عنایت حاصل ہوجائے۔

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ تعالیٰ کے ہم کلام ہونے کی افضیلت 

اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بلاواسطہ خطاب فرمایا اور یہ شرف ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل نہیں ہوا، اس سے لازم آئے گا کہ حضرت موسیٰ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل ہوں اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

فاوحئی الی عبدہ ما اوحئی (النجم :10) سو اس نے اپنے عبدمکرم کی طرف (بلاو اسطہ) وحی فرمائی جو وحی فرمائی۔

شب معراج اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کلام فرمایا۔

فرق یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کلام فرمایا اس کو مخلوق پر ظاہر فرما دیا اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کلام فرمایا وہ ایک سر اور راز ہے جس پر کسی کو مطلع نہیں فرمایا حتی کہ کراماً کاتبین کو بھی اس پر مطلع نہیں فرمایا اور اس کا دورسا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے کلام فرمایا لیکن یہ منقول نہیں ہے کہ ان کے کسی امتی نے بھی اللہ تعالیٰ سے کلام فرمایا : جب کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امتی کو یہ شرف دنیا میں بھی حاصل ہوا ہے آخرت میں بھی حال ہوگا۔ دنیا میں اس کی مثال یہ ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی میں باتیں کرتا ہے، الحدیث۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :241-531، سنن ابودائود رقم الحدیث :1754، مسند احمد رقم الحدیث :19117 عالم الکتب) اور آخرت میں اس کی مثال یہ ہے :

صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) سے کسی شخص نے سوال کیا کہ اے ابن عمرچ کیا آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ (سرگوشی کرنے) کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن کو اپنے رب کے نزدیک کیا جائے گا حتی کہ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر اپنی رحمت کا پرکھ دے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا، آیا تم فلاں گناہ کو پہچانتے ہو وہ کہے گا : میں پہچانتا ہوں ! وہ دو بار کہے گا میں پہچانتا ہوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تم پر پردہ رکھا تھا اور آج میں تم کو بخش دیتا ہوں پھر اس کی نیکیوں کا صحیفہ لپیٹ دیا جائے گا اور دوسروں کو یا کافروں کو لوگوں کے سامنے پکارا جائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 4685، صحیح مسلم رقم الحدیث :276، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :183، السنن الکبریٰ رقم الحدیث، 11242)

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کا ارشاد ہے :

سلم قولا من رب رحیم (یٰسین 58) مہربان رب کی طرف سے انہیں سلام کیا جائے گا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کو طول دینے کی حکمتیں 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے صرف یہ سوال کیا تھا کہ آپ کے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ نے اس کے جواب میں ان چیزوں کو بھی ذکر کیا جن کا سوال نہیں کیا گیا تھا اور کاف طویل جواب دیا وہ صرف یہ کہہ سکتے تھے لاٹھی، لیکن انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے، پھر اس کے فوائد بھی ذکر کئے اور کہا میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے درخت کے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی فوائد ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی سوال کے جواب میں ان چیزوں کا ذکر کرنا بھی درست ہے جن کے متعلق سوال نہ کیا گیا ہو، احادیث میں اس کی مثال یہ ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا، یا رسول اللہ ہم سمندر میں سفرک رتے ہیں اور ہمارے پاس بہت تھوڑا پانی ہوتا ہے اگر ہم اس پانی سے وضو کرلیں تو پیاسے رہیں گے کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں : آپ نے فرمایا، سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :69 سنن ابودائود رقم الحدیث :83 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :386: سنن النسائی رقم الدیث :59، مئوطا امام مالک رقم الحدیث :513 مصنف عبدالرزاق رقم الدیث :1485، مسند الحمیدی رقم الحدیث، 343، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ص 120)

آپ سے صرف سمندر کے پانی کے پاک کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا لیکن آپ نے اس کے پاک کرنے کا بھی ذکر فرمایا اور اس کے مردار کے حلال ہونے کا بھی ذکر فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ کسی سوال کا طویل جواب دینا جائز ہے۔

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی 1364 ھ اپنے شیخ حاجی امداد اللہ متوفی 1317 ھ کا ایک ملفوظ نقل کرتے ہیں :

(181) فرمایا منقول ہے کہ شب معراج کو جب آں حضرت، حضرت موسیٰ سے ملاتی ہوئے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے استفسار فرمایا کہ علماء امتی کا نبی اء بنی اسرائیل جو آپ نے کہا ہے کیسے صحیح ہوسکتا ہے، (یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانند ہیں) حضرت حجتہ الاسلام امام غزالی حاضر ہوئے اور سلام بہ اضافہ الفاظ برکاتہ و مغفرتہ وغیرہ عرض کیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ کیا طوالت بزرگوں کے سامنے کرتے ہو ؟ آپ (امام غزالی) نے عرض کیا : آپ سے حق تعالیٰ نے صرف اس قدر پوچھا تھا ماتلک بیمینک یا موسیٰ تو آپ نے کیوں جواب میں اتنا طول دیا کہھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی ولی فیھا مارب اخری۔ آں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔ ادب با غزالی (امداد المثتاق ص 29 مکتبہ اسلامیہ لاہور)

برتقدیر صحت امام غزالی کا یہ مطلب تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں آپ نے اس لئے طویل کلام کیا تھا کہ جب تک آپ کلام کرتے رہیں گے اللہ تعالیٰ سنتا رہے گا اور آپ کو اس کی توجہ کے حصول کا شرف حاصل ہوگا۔ اسی طرح میں نے آپ کے سامنے طویل کلام اس لئے کیا ہے کہ جب تک میں کلام کرتا رہوں گا آپ سنتے رہیں گے اور مجھے آپ کی توجہ کا شرف حاصل رہے گا۔ آپ کے لئے بارگاہ الوہیت میں حاضر ہونا باعث فضیلت تھا اس لئے آپ نے کلام کو طول دیا اور میرے لئے بارگاہ کلیم اللہ میں حاضر ہونا باعث عزت ہے اس لئے میں نے اپنے کلام کو طول دیا۔

عصا رکھنے کے فوائد 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے کنوئیں پر جائو جس کی رسی چھوٹی ہو تو تم اس کے ساتھ عصا جوڑ کر پانی نکال سکتے ہو اور جب تم سفر میں اور سخت دھوپ اور گرمی ہو تو تم زمین میں عصا گاڑ کر اس پر کپڑا پھیلا کر سایہ حاصل کرسکتے ہو، اور جب تم کو حشرات الارض سے خطرہ ہو تو عصا کے ذریعہ تم ان کو مار سکتے ہو، اور تم اس کی مدد سے بکریوں سے درندوں کو دور کرسکتے ہو۔

میمون بن مہران نے بیان کیا کہ عصا رکھنا انبیاء کی سنت ہے اور مومن کی علامت ہے اور حسن بصری نے کہا کہ عصا رکھنے میں چھ فضیلتیں ہیں، یہ انبیاء کی سنت ہے، صلحاء کی زینت ہے، دشمنوں کے خلاف ہتھیار ہے، کمزوروں کا مددگار ہے، منافقین کے لئے باعث پریشانی ہے اور عبادات میں زیادتی کا باعث ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب مومن کے پاس عصا ہو تو اس سے شیطان بھاگتا ہے، منافق اور بدکار اس سے ڈرتا ہے اور جب وہ نماز پڑھے تو اس کے لئے سرتہ ہے اور جب وہ تھک جائے تو اس کے لئے قوت ہے۔ حجاج کی ایک اعربای سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا اے اعرابی تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ اس نے کہا جنگل سے، کہا متہارے ہاتھن میں کیا ہے ؟ اس نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس کو میں نماز کے وقت گاڑ لیتا ہوں اور اس کو میں اپنے دشمنوں کے لئے تیار رکھتا ہوں، اور اس سے میں اپنے جانوروں کو ہنکاتا ہوں اور اس کی مدد سے میں اپنے سفر میں قوت حاصل کرتا ہوں اور چلتے وقت اس پر اعتماد کرتا ہوں تاکہ لمبے لمبے قدم رکھ سکوں، اس کے ساتھ میں نہر میں داخل ہوں اور یہ مجھے پھسلنے سے محفوظ رکھتا ہے، اس پر میں اپنی چادر ڈال دیتا ہوں تو یہ مجھے دھوپ سے بچاتا ہے، اس سے میں دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں اور کتوں سے محفوظ رہتا ہوں اور یہ میرے لئے تلوار اور نیزے کا قائم مقام ہے، اس سے میں درختوں کے پتے جھاڑتا ہوں اور میرے لئے اس میں اور بھی فوائد ہیں۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ١١ ص 107-108 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کے وقت عید گاہ جاتے اور آپ کے سامنے عصا اٹھایا جاتا اور عید گاہ میں آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا اور آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث، 494، سنن ابو دائود رقم الحدیث :687)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں اور ایک نوجوان (حضرت ابن مسعود) آپ کے ساتھ جاتے تھے، ہمارے ساتھ نیزہ یا عصا ہوتا تھا اور ہمارے ساتھ ایک مشکیزہ ہوتا تھا جب آپ قضاء حاجت سے فارغ ہوجاتے تو ہم آپ کو وہ مشکیزہ دیتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :500 سنن ابو دائود رقم الحدیث :43، سنن النسائی رقم الحدیث :45)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 17