أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

‌وَهَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰى‌ۘ‏ ۞

ترجمہ:

کیا آپ کے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ کے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے ؟ جب انہوں نے آگ کو دیکھا تو اپنی بیوی سے کہا ٹھہرو، بیشک میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں اس سے تمہارے پاس کوئی انگارہ لائوں یا میں آگ سے راستہ کی کوئی نشانی پائوں (طہ :9-10)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرنے کی وجہ 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت بیان فرمائی تھی اب اس کے بعد انبیاء علہیم السلام کا ذکر فرا رہا ہے تاکہ انبیاء (علیہم السلام) کے احوال سن کر اور ان کو تبلیغ کی راہ میں جو مشکلات پیش آئیں اور انہوں نے جو سختیاں اٹھائیں اور کافر نے ان کو جو دل آزار باتیں کہیں ان سب پر مطلع ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان اور تسلی ہوگی اور کفار کو تبلیغ کرنے کے لئے آپ کا دل مزید مضبوط ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

کلانقص علیک من انبیآء الرسل مانثبت بہ فوادک (ھود :120) ہم آپ کے سامنے رسولوں کے تمام احوال بیان فرما رہے ہیں جن سے ہم آپ کے دل کو مضبوط کر رہے ہیں۔

اور انبیاء (علیہم السلام) کے احوال میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے ابتدا کی کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت فتنوں اور بہت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا تھا تاکہ اس راہ میں سختیوں کے برداشت کرنے کے لئے آپ کے حق میں تسلی کا سبب فراہم ہو۔

حضرت موسیٰ کا حضرت شعیب کی اجازت سے مدین سے روانہ ہونا 

یہ جو فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے اس کے دو محمل ہیں، ایک یہ کہ جب پہلی بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت موسیٰ کی خبر دی تو فرمایا کیا آپ کے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے ؟ یعنی اب تک آپ کے پاس موسیٰٓ کی خبر نہیں پہنچی۔ ہم آپ کو اب موسیٰ کی خبر دے رہے ہیں اور اس کا دوسرامحمل یہ ہے کہ اس سے پہلے آپ کے پاس موسیٰ کی خبر پہنچ چکی ہے اور یہ فرما کر کہ کیا آپ کے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے ہم آپ کو اس خبر پر متنبہ کر رہے ہیں۔

وھب بن منبہ یمانی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت کرنے کی مدت پوری کردی تو وہ ان سے اجازت لے کر مصر کی طرف واپس روانہ ہوئے، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھیں اور ایک بکری تھی اور عصا تھا جس سے وہ دن میں بکری کے لئے پتے جھاڑتے تھے اور ایک چقماق تھا جس سے وہ رات کو آگ جلا کر حرارت حاصل کرتے کیونکہ وہ انتہائی سرد موسم تھا اور برفانی راتیں تھیں۔ جب وہ رات آئی جس میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے مشرف کرنا چاہتا تھا اور ان کو اپنے کلام سے سرفرز کرنا چاہتا تھا اس رات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رات بھول گئے حتیٰ کہ انہیں پتا نہیں چلا کہ وہ کس طرح متوجہ ہوں۔ انہوں نے چقماق نکالا تاکہ اپنے اھل کے ساتھ رات گزارنے کے لئے آگ روشن کریں اس رات وہ چقمقا نہ جل سکا اور وہ اس کو جلانے کی کوشش میں تھک گئے حتیٰ کہ انہوں نے ایک جگہ آگ دیکھی۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18102، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1416 ھ)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اھل سے کہا تم لوگ ٹھہرو، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اھل سے مراد ان کی زوجہ صفوراء ان کا بچہ اور ان کا خادم ہوا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اھل سے مراد صرف ان کی زوجہ ہو کیونکہ اھل کا اطلاق دونوں پر ہوتا ہے۔ امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ ان کی بیوی کا نام صفورا تھا (جامع البیان رقم الحدیث :20864) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا انی انست ناراً میں نے آگ کو دیکھا ہے ایناس کا معنی ہے اس واضح چیز کو دیکھنا جس میں کوئی اشتباہ نہ ہو، اس لفظ سے انسان العین بنا ہے جس کا معنی ہے آنکھ کی پتلی جس سے چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور اسی سے انس بنا ہے جس کا معنی ہے انسان، کیونکہ وہ بھی ظاہر ہوتا ہے اس کے برخلاف جن کا معنی ہے چھپی ہوئی چیز اور جنات کو جن اس لئے کہتے ہیں کہ وہ مخفی ہوتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔ سو انس کا معنی ظاہر اور جن کا معنی مخفی ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔

حضرت موسیٰ نے اپنے اھل سے فرمایا شاید میں اس سے تمہارے پاس کوئی انگارہ لائوں یا میں آگ سے راستہ کی کوئی نشانی پائوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ نہیں فرمایا کہ میں تمہارے پاس انگارہ لے کر آتا ہوں، کیونکہ ہوسکتا ہے ان کو جو آگ نظر آئی تھی وہ کوئی اور چیز ہوتی اور وہ اس سے اپنے وعدہ کے مطابق انگارہ نہ لاسکتے تو انہوں نے وعدہ کے خلاف ورزی سے بچنے کے لئے فرمایا شاید میں تمہارے پاس اس سے انگارہ لے آئوں !

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آگ کو دیکھنا 

امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

وھب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ کو دیکھا تو وہ تھوڑی دور چلے حتیٰ کہ آگ کے قریب پہنچ کر ٹھہر گئے۔ انہوں نے دیکھا وہ بہت عظیم الشان آگ تھی جو ایک سرسبز درخت کی شاخوں سے بھڑک رہی تھی اور آگ کے بھڑکنے سے درخت جلنے کے بجائے اور زیادہ سرسبز ہو رہا تھا اور اس کا حسن اور زیادہ نکھر رہا تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سوچا یہ ایسی آگ ہے کہ اس سے انگارے حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ وہ وہاں پر حیران کھڑے ہوئے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ میں یہیں پر کھڑا رہوں یا واپس چلا جائوں، وہ اسی کیفیت میں تھے کہ اس درخت سے عموید شکل میں آسمان کی جانب ایک نور بلند ہوا جو سورج کی شعاع کی مثل تھا اور اس پر نظر نہیں ٹھہرتی تھی وہ اسی خوف اور دہشت کی حالت میں کھڑے ہوئے تھے کہ درخت سے ایک بلند آواز آئی یا موسیٰ ! (کتاب الزھد ص 79-80 ملحضاً اس روایت کا امام رازی نے بھی ذکر کیا ہے تفسیر کبیرج ٨ ص 16-17 بیروت، حافظ سیوطی نے اس روایت کو امام احمد کی کتاب الزھد، امام ابن ابی حاتم، امام عبدبن حمید اور امام ابن المنذر کے والوں سے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ (الدرا المثور ج ٥ ص 554-555)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 9