حدیث نمبر 325

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ اور فرشتے درود بھیجتے ہیں پہلی صف پر لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ اور دوسری پر ۱؎ فرمایا کہ اﷲ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں پہلی صف پر لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ اور دوسری پر فرمایا کہ بے شک اﷲ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں پہلی صف پر لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ اور دوسری پر فرمایا اور دوسری پر ۲؎ اور فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صفیں سیدھی کرو اور اپنے کندھوں کے درمیان مقابلہ رکھو۳؎ اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو۴؎ کشادگیاں بھرو کیونکہ شیطان تمہارے درمیان بکری کے بچے کی شکل میں گھس جاتاہے ۵؎(احمد)

شرح

۱؎ دوسری سے مراد ساری پچھلی صفیں ہیں اور ہوسکتا ہے کہ خاص دوسری ہی صف ہی مراد ہے۔

۲؎ یعنی پہلی صف پر رب تعالٰی کی رحمتیں زیادہ ہیں ا ور بقیہ صفوں پرکم۔صوفیانہ طور پرمعلوم ہوتا ہے کہ خدا کی رحمتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جنبش لب سے وابستہ ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول رحمت کی خبر دی تھی۔ جب تک پہلی صف کا ذکر فرمایا تو وہی رحمت الٰہی کی مستحق تھی اور جب دوسری کا نام بھی لے دیا تو اس نام لینے کی برکت سے وہ بھی رحمت کی مستحق ہوگئی۔

۳؎ پہلے عرض کیا جاچکا کہ صف سیدھی کرنے سے مراد ہے آگے پیچھے نہ ہونا اور کندھوں کے مقابلے سے مراد ہے اوپر نیچے نہ کھڑا ہونا،ہر شاہ و گدا کا ایک زمین پر کھڑا ہونا لہذا احکام میں تکرار نہیں۔

۴؎ یہ جملہ گزشتہ کی تفسیر ہے یعنی نماز میں اکڑے ہوئے مت کھڑے ہوؤ جیسے کوئی تمہاری اصلاح کرے تو قبول کرلو۔

۵؎ تمہیں وسوسہ دلانے کے لیے،رب کی شان ہے کہ شیطان صف کی کشادگی میں سے گھس سکتا ہے مگر پاؤں کے درمیان سے نہیں ہر شے کی تاثیر علیٰحدہ ہے۔