أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِىْ ۞

ترجمہ:

اس سے میری کمر کو مضبوط کر دے

ازر کا معنی 

حضرت موسیٰ کا ساتواں سوال یہ تھا کہ میرے بھائی سے میری کمر مضبوط کر دے، ازر کے معنی ہیں قوت، فازرہ کے معنی ہیں اس کی اعانت کی، ابوعبیدہ اور خلیل نے کہا ازر کے معنی ہیں پشت، خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا وہ ان کے بھائی حضرت ہارون کو ان کا وزیر بنا دے تاکہ وہ ان کی مدد کریں اور انکی کمر کو مضبوط رکھیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 31