أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَنِ اقۡذِفِيۡهِ فِى التَّابُوۡتِ فَاقۡذِفِيۡهِ فِى الۡيَمِّ فَلۡيُلۡقِهِ الۡيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَاۡخُذۡهُ عَدُوٌّ لِّىۡ وَعَدُوٌّ لَّهٗ‌ ؕ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَـبَّةً مِّنِّىۡ وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِىۡ ۘ ۞

ترجمہ:

کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو ، پھر دریا کو حکم دیا کہ وہ اس کو کنارے پر لے آئے، اس کو میرا دشمن اور اس کا دشمن لے لے گا، اور میں نے آپ کے اوپر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اور تاکہ میری نظر کے سامنے آپ کی پرورش کی جائے

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اوپر اپنے آٹھ احسانات کا ذکر فرمایا ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر پہلا احسان، جب ہم نے آپ کی ماں کی طرف وہ وحی کی تھی جو وحی آپ کی طرف کی جا رہی ہے کہ اس بچہ کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو پھر دریا کو حکم دیا کہ وہ اس کو کنارے پر لے آئے، اس کو میرا دشمن اور اس کا دشمن لے لے گا۔

حضرت موسیٰ پر ان کے صندوق کو دریا میں سلامت رکھنے کا احسان (٢)

فرعون ایک سال بچوں کو قتل کرتا پھر دوسرے یا تیسرے سال بچوں کو چھوڑ دیتا تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) اس سال پیدا ہوئے تھے جس سال وہ بچوں کو چھوڑ دیتا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے ایک سال بعد پیدا ہوئے جو بچوں کو قتل کرنے کا سال تھا تو حضرت موسیٰ کی ماں نے ایک صندوق کے اندر روئی رکھی اور اس میں حضرت موسیٰ کو رکھا پھر اس صندوق کو دریائے نیل میں ڈال دیا اس پر یہ اعترضا ہوتا ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ کی ماں کو یہ خطرہ تھا کہ فرعون ان کو قتل کر دے گا تو موت کے حوالے کردینا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی والدہ کو اپنے خواب یا الہام پر کامل اعتماد تھا۔

اس آیت میں اقذفیہ کا لفظ یہ واحد مونث مخاطب کا لفظ ہے اور قذف کا معنی ہے ڈالنا قرآن مجید میں ہے :

وقذف فی قلوبھم الرعب : (الاحزاب :26) ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔

سو اقذفیہ کا معین ہے اس کو ڈلا دو اور ” الیم “ کا معنی ہے سمندر، اس کا اطلاق سمندر اور دریا دونوں پر ہوتا ہے اور یہاں اس سے مراد دریائے نیل ہے اور ساحل سحل کا اسم فاعل ہے اور یہ مفعول یعنی مسحول کے معنی میں ہے۔ سحل کا معنی بھی پھینکنا اور ڈالنا ہے اور چونکہ سمندر اور دریا کے کنارے پانی سمندر اور دریا کی چیزیں لا کر پھینک دیتا ہے اس لئے اس کو ساحل کہتے ہیں۔

فرعون کے گھر حضرت موسیٰ کو پہچانے کا احسان (٣)

فرعون کی بیوی آسیہ دریا سے اپنی بندیوں کے ذریعہ پانی منگوا رہی تھی تو اچانک اس کی نظر اس صندوق پر پڑی، اس نے باندیوں سے کہا اس صندوق کو اٹھا لو۔ جب اس صندوق کو اٹھایا تو اس میں حضرت موسیٰ تھے۔ حضرت موسیٰ کی دل لبھانے والی صورت تھی جو دیکھتا تھا اس کو آپ پر پیار آتا تھا تو فرعون نے بھی آپ کو پالنے اور پرورش کرنے کا ارادہ کرل یا، اس کی دوسری وجہ یہ بیان کی گئی ہے :

دریا نے اس صندوق کو ساحل پر لاپھینکا، ساحل سے پانی کی ایک چھوٹی سی نہر فرعون کے گھر کے باغ میں جاتی تھی اس طرح حضرت موسیٰ فرعون کے گھر میں پہنچ گئے اور فرعون نے جب حضرت موسیٰ کو دیکھا تو اٹھا لای۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اس کو میرا اور اس کا دشمن لے لے گا۔ 

اس آیت پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ فرعون کا اللہ کا دشمن ہونا تو ظاہر ہے کیونکہ وہ کفر اور سرکشی میں بہ بڑھ چکا تھا، لیکن اس وقت تک اس کا حضرت موسیٰ کا دشمن ہونا تو ظاہر نہیں ہوا تھا بلکہ اس وقت تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کرنے والا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ مستقبل میں اس نے حضرت موسیٰ سے دشمنی کرنی تھی ان کی مخالفت کرنی تھی اور ان کے قتل کے در پے ہونا تھا تو آئندہ کے اعتبار سے اس کو بھی مجاز اً ان کا دشمن فرمایا۔

فرعون کے دل میں حضرت موسیٰ کی محبت ڈالنے اور ان کی پرورش کا احسان (٤)

پھر فرمایا اور میں نے آپ کے اوپر اپنی طرف سے محبت ڈال دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چہرہ بہت حسین تھا اور آپ کی آنکھیں بہت خوب صورت تھیں، جو بھی آپ کو دیکھتا تھا اس کو آپ پر محبت آتی تھی اور یہ بھی آپ کے اوپر اللہ تعالیٰ کا انعام اور احسان تھا، اسی وجہ سے فرعون اور اس کی بیوی دونوں آپ سے محبت کرنے لگے اور آپ کی پرورش میں لگ گئے۔

اس کے بعد فرمایا اور تاکہ میری نظر کے سامنے آپ کی پرورش کی جائے اس کا معنی یہ ہے تاکہ میرے ارداہ کے موافق آپ کی پرورش کی جائے اور اس کے دو محمل میں ایک یہ ہے کہ عین سے مراد علم ہے اور جب کوئی شخص کسی چیز کا عالم ہوتا ہے تو اس چیز کی آفات اور بلیات سے اس طرح حفاظت کرتا ہے جس طرح اس کو دیکھنے والا اس کی حفاظت کرنا ہے اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے عین سے مراد ہے حفاظت کرنا، کیونکہ جو شخص کسی چیز کو دیکھ رہا ہو وہ اس چیز کی ایذا دینے والی چیزوں سے حفاظت کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی آنکھ کا معنی 

عین کے معنی آنکھ ہیں، اس آیت کا ترجمہ یہ ہے تاکہ میری آنکھ کے سامنے آپ کی پرورش کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی آنکھ کے متعلق امام ابوحنیفہ اور دیگر متقدمین کا یہ نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آنکھ ہے لیکن وہ ہماری آنکھ کی طرح نہیں ہے، بلکہ اس کی آنکھ کی کوئی مثال نہیں ہے، یہ اس کی صفت بلاکیف ہے۔ اس کی صفت کی نفی کی جائے نہ اس کی کسی مخلوق کے ساتھ کوئی مثال دی جائے اور نہ اس کی کوئی تاویل کی جائے، لہٰذا یہاں آنکھ کی تاویل رویت یا نظر سے کرنا درست نہیں ہے اور متاخرین نے جب دیکھا کہ اسلام کے معاندین اس قسم کی آیات کی وجہ سے اسلام پر طعن کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے خدا کے جسمانی اعضاء ہیں تو انہوں نے اس قسم کی آیات کی تاویل کی اور کہا عین کا معنی رویت، نظر اور علم ہے۔ اس کی پوری تفصیل اور تحقیق ہم نے الاعراف : ٥٤ میں کی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 39