أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوۡحٰٓى ۞

ترجمہ:

جب ہم نے آپ کی ماں کی طرف وہ وحی کی تھی جو وحی آپ کی طرف کی جا رہی ہے

حضرت موسیٰ کی ماں پر وحی کرنے کا احسان اور عورت کے نبی نہ ہونے پر دلائل 

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اوپر اپنے آٹھ احسانات کا ذکر فرمایا ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر پہلا احسان، جب ہم نے آپ کی ماں کی طرف وہ وحی کی تھی جو وحی آپ کی طرف کی جا رہی ہے کہ اس بچہ کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو پھر دریا کو حکم دیا کہ وہ اس کو کنارے پر لے آئے، اس کو میرا دشمن اور اس کا دشمن لے لے گا۔

علامہ قرطبی مالکی اور بعض دیگر علماء کی یہ رائے ہے کہ عورت بھی نبی بن سکتی ہے اور وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی گئی ہے اور وحی صرف انبیاء اور رسل کی طرف کی جاتی ہے اور جمہور علماء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں انبیاء اور رسل میں سے نہ تھیں، اس لئے اس آیت میں وحی سے وہ وحی مراد نہیں ہے جو انبیاء کی طرف کی جاتی ہے اور یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے جب کہ عورت قاضی اور امام بننے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی بلکہ امام شافعی (رح) کے نزدیک وہ اپنا نکاح بھی خود نہیں کرسکتی تو وہ نبی بننے کی کب صلاحیت رکھ سکتی ہے اور اس پر قوی دلیل یہ آیت ہے :

وما ارسلنا فبدک الارجالاً نوحی الیھم (الانبیاء : ٧) آپ سے پہلے ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے اور قرآن مجید میں غیر انبیاء کے لئے بھی وحی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے :

واوحی ربک الی النحل (النحل :68) اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی۔ واذا اوحیث الی الحواربن (المائدہ : ١١١) اور جب میں نے حواریین کی طرف وحی کی۔

باقی رہا یہ امر کہ حضرت موسیٰ کی ماں کی طرف جو وحی کی گئی تھی اس وحی سے کیا مراد ہے اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں۔

(١) اس وحی سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا دیکھا ہوا خواب ہے، انہوں نے خواب دیکھا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کو تابوت میں رکھا پھر اس تابوت کو دریا میں ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو پھر ان کی طرف لوٹا دیا۔ 

(٣) اس وحی سے مراد الہام ہے اور الہام سے مراد ہے دل میں کسی نیک بات کا آ کر ٹھہر جانا۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 38