أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا قَدۡ اُوۡحِىَ اِلَـيۡنَاۤ اَنَّ الۡعَذَابَ عَلٰى مَنۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى ۞

ترجمہ:

بیشک ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ اسی پر عذاب ہوگا جس نے جھٹلایا اور پیٹھ پھیری

دائمی عذاب صرف کفار کو ہو گا 

طہ :48 میں فرمایا بیشک ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ اسی پر عذاب ہوگا جس نے جھٹلایا اور پیٹھ پھیری۔

اس آیت میں اس پر قوی دلیل ہے کہ مومن کو دائمی عذاب نہیں ہوگا، کیونکہ العذاب میں الف لام استغراق کا ہے یا جنس کا ہے اور ہر تقدیر پر معنی یہ ہے کہ جنس عذاب اسی پر ہوگا جو اللہ تعالیٰ کا مکذب ہو اور اس سے روگردانی کرنے والا ہو، اور جو اس طرح نہیں ہوگا اس پر بالکل عذاب نہیں ہوگا اور آیت کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ جو مومن بعض اوقات عمل ترک کردیتا ہے اس کو بھی عذاب نہ ہو کیونکہ عذاب نہیں ہوگا اور آیت کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ جو مومن بعض اوقات عمل ترک کردیتا ہے اس کو بھی عذاب نہ ہوگا  کیونکہ عذاب صرف مکذب اور پیٹھ پھیرنے والے پر ہوتا ہے، لیکن چونکہ دوسری آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ترک عمل پر بھی عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا :

فویل للمصلین الذین ھم عن صلاتھم ساھون (الماعون، 4-5) ان نمازیوں کے لئے عذاب ہے جو اپنی نمازوں سے غفلت کرنے والے ہیں۔

اسی طرح بعض آیتوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ برے عمل کرنے والوں کو بھی عذاب ہوگا :

ویل لکل ھمزۃ لمزۃ (الھمزہ : ١) ہر عیب تلاش کرنے والے اور غیبت کرنے والے کے لئے عذاب ہے۔

اس لئے زیر بحث آیت کا معنی یہ ہے کہ دائمی عذاب صرف ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرتے ہوں اور اس سے پیٹھ پھیرتے ہوں۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 48