أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے والا ہے

اس کے بعد فرمایا بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے والا ہے۔ اس کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) بیشک تو خوب جاننے والا ہے کہ ہم اپنی دعائوں اور عبادتوں سے محض تیری رضا جوئی کا ارادہ کرتے ہیں اور تیرے سوا اور کسی سے دعا نہیں کرتے۔

(٢) تجھ کو خوب معلوم ہے کہ میں نے جو یہ دعائیں کیں یہ صرف کار نبوت کے لئے کیں ہیں۔ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعائیں کرنے کے بعد یہ کلمات اس لئے کہے تاکہ ظاہر ہو کہ انہوں نے اپنے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیئے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 35