جمعِ قرآن کا تاریخی پس منظر:

حقیقی طور پر قرآنِ عظیم کو جمع فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اِنَّ عَلَیۡنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ ﴿ۚۖ۱۷﴾‘‘ (قیامہ: ۱۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔

حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنے مقدس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام کے بیان کے مطابق قرآنِ مجید کو لوحِ محفوظ کی ترتیب کے مطابق صحابہ کرام کو بیان فرمایا اور اس کی صورت یہ تھی کہ قرآنِ مجید23 سال کے عرصے میں حالات و واقعات کے حساب سے جدا جدا آیتیں ہو کر نازل ہوا، کسی سورت کی کچھ آیتیں نازل ہوتیں پھر دوسری سورت کی کچھ آیتیں اترتیں ، پھر پہلی سورت کی آیتیں نازل ہوتیں ، حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہر بار ارشاد فرماتے کہ یہ آیات فلاں سورت کی ہیں لہٰذا اسے فلاں آیت کے بعد اورفلاں آیت سے پہلے رکھا جائے، چنانچہ وہ آیات اسی سورت میں اور اسی جگہ پر رکھ دی جاتیں۔ اسی ترتیب کے مطابق حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے سن کر صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نماز میں اور تلاوت کے دوران قرآنِ مجید پڑھتے۔

اس دور میں سارا قرآنِ عظیم کتابی شکل میں ایک جگہ جمع نہیں تھا بلکہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے سینوں محفوظ تھا اور مُتفرق کاغذوں ، پتھر کی تختیوں ، بکری دنبے کی کھالوں ، اونٹوں کے شانوں اور پسلیوں کی ہڈیوں وغیرہ پر لکھا ہوا تھا۔ جب حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں نبوت کے جھوٹے دعوے دار ملعون مُسَیلمہ کذّاب سے جنگ ہوئی تو اس میں بہت سے حفاظ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم شہید ہو گئے ۔امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر گزارش کی کہ اس لڑائی میں بہت سے وہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم شہید ہو گئے ہیں جن کے سینوں میں قرآنِ عظیم تھا،اگر اسی طرح جہادوں میں حفاظ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم شہید ہوتے گئے اور قرآنِ عظیم کوایک جگہ جمع نہ کیا گیا تو قرآنِ مجید کا بہت سا حصہ مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتے رہنے کااندیشہ ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ اس بات کا حکم دیں کہ قرآنِ مجید کی سب سورتیں ایک جگہ جمع کر لی جائیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’جو کام حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے نہ کیا وہ ہم کیسے کریں ؟حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: اگرچہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے یہ کام نہ کیا لیکن خدا کی قسم! یہ کام بھلائی کا ہے ۔ آخر کار حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ان کی رائے پسند آگئی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت زید بن ثابت انصاری اور دیگر حفاظ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو اس عظیم اور اہم ترین کام کا حکم دیا اور کچھ ہی عرصے میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہْ سارا قرآنِ عظیم ایک جگہ جمع ہو گیا، ہر سورت ایک جدا صحیفے میں تھی اور وہ صحیفے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حِینِ حیات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس رہے ،ان کے بعد امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے بعد اُمّ المؤمنین حضرت حفصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس رہے۔عرب میں چونکہ بہت سے قبیلے رہتے تھے اورہر قوم اور قبیلے کی زبان کے بعض الفاظ کاتلفظ اور لہجے مختلف تھے اور حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے مقدس زمانے میں قرآنِ عظیم نیا نیا اترا تھا اور ہر قوم و قبیلہ کو اپنے مادری لہجے اور پرانی عادات کو یکدم بدلنا دشوار تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان پر یہ آسانی فرما دی گئی تھی کہ عرب میں رہنے والی ہر قوم اپنی طرز اور لہجے میں قرآنِ مجید کی قرا ء ت کرے اگرچہ قرآنِ مجید’’ لغت قریش‘‘ پر نازل ہوا تھا ۔زمانۂ نبوت کے بعد چند مختلف قوموں کے بعض افراد کے ذہنوں میں یہ بات جم گئی کہ جس لہجے اور لغت میں ہم پڑھتے ہیں اسی میں قرآنِ کریم نازل ہوا ہے،اس طرح کوئی کہنے لگا کہ قرآن اس لہجہ میں ہے اور کوئی کہنے لگا نہیں بلکہ دوسرے لہجے میں ہے یہاں تک کہ امیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں یہ نوبت آگئی کہ لوگ اس معاملے میں ایک دوسرے سے لڑنے کے لئے تیار ہو گئے ۔جب امیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کواس بات کی خبر پہنچی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’ابھی سے تم میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا ہے تو آئندہ تم سے کیا امید ہے؟ چنانچہ امیرُ المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور دیگر اکابر صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مشورے کے مطابق یہ طے پایا کہ اب ہر قوم کو اس کے لب و لہجہ کی اجازت میں مصلحت نہ رہی بلکہ اس سے فتنہ اٹھ رہا ہے لہٰذا پوری امت کو خاص ’’لغتِ قریش‘‘پر جس میں قرآن مجیدنازل ہوا ہے جمع کر دینا اور باقی لغتوں سے باز رکھنا چاہئے اور حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو صحیفے جمع فرمائے تھے وہ اُمّ المؤمنین حضرت حفصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے منگوا کر ان کی نقلیں لی جائیں اور تمام سورتیں ایک مصحف میں جمع کر دی جائیں ،پھر وہ مَصاحف اسلامی شہروں میں بھیج دئیے جائیں اور سب کو حکم دیاجائے کہ وہ اسی لہجے کی پیروی کریں اور اس کے خلاف اپنے اپنے طرز ادا کے مطابق جو صحائف یا مصاحف بعض لوگوں نے لکھے ہیں فتنہ ختم کرنے کے لئے وہ تلف کر دئیے جائیں۔ چنانچہ اسی درست رائے کی بنا ء پرامیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے وہ صحائف منگوائے اور ان کی نقلیں تیار کر کے تمام شہروں میں بھیج دی گئیں۔اسی عظیم کام کی وجہ سے امیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ’’جامعُ القرآن ‘‘ کہا جاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ،۲۶/۴۳۹-۴۵۲، ملخصاً)