باب الموقف

جگہ کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی اس کا بیان کہ جماعت میں امام و مقتدی کہاں کھڑے ہوں۔

حدیث نمبر 330

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ میمونہ کے گھر میں رات گزاری ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اٹھے میں آپ کے بائیں کھڑا ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اسی طرح پیٹھ کے پیچھے سے دائیں طرف گھمالیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے ہاں تھی اس نیت سے رات گزاری تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے اعمال طیبہ و طاہرہ دیکھوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہجد ادا کروں جیسا کہ دیگر روایات میں ہے اس لیے آپ تمام رات جاگتے ہی رہے ہوں گے۔شعر

ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا تصور میں ترہے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں

۲؎ اس حدیث سے بہت سے مسائل معلو م ہوئے: ایک یہ کہ نفل نماز خصوصًا تہجد جماعت سے جائز ہے جبکہ اس کے لیے اذان تکبیر لوگوں کے بلاوے وغیرہ سے اہتمام نہ کیا گیا ہو۔دوسرے یہ کہ اکیلا مقتدی امام کے برابر دائیں طرف کھڑاہوگا۔ تیسرے یہ کہ عمل قلیل ضرورۃً نماز میں جائز ہے جس سے نماز نہیں ٹوٹتی،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ہی میں آپ کو ہاتھ سے پکڑ کر گھمایا اور آپ نماز ہی میں ایک دو قدم چل کر بائیں سے دائیں طرف گئے۔چوتھے یہ کہ مقتدی امام سے آگے نہیں بڑھ سکتا اگر بڑھے گا تو نماز جاتی رہے گی،دیکھو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو آگے سے نہیں گھمایا حالانکہ وہ آسان تھا بلکہ پیچھے سے گھمایا۔پانچویں یہ کہ جس نے اول سے امامت کی نیت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے ،دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بوقت تکبیرتحریمہ اکیلے نماز کی نیت کی تھی مگر بعد میں حضرت ابن عباس مقتدی بن کر کھڑے ہوگئے۔