شوال کے 6 روزے

تحریر : نثار مصباحی

رمضان کا مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہو چکا. اس ماہِ مقدس میں اللہ عزوجل کا خاص کرم اس کے بندوں پر ہوتا ہے. پھر کرم بالاے کرم یہ ہے کہ عید کے مہینے (شوال) میں 6 روزوں کے سبب اللہ عزوجل اپنے بندوں کو پورے سال روزہ رکھنے کا ثواب عطا فرماتا ہے.

صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی حنفی رَحِمَہ اللہ (متوفی 1367ھ) فقہ حنفی کی اپنی عظیم کتاب “بہارِ شریعت” میں شوال کے 6 روزوں کے بارے میں حدیثیں لکھتے ہیں :

“1- مسلم, ابوداؤد, نسائی, ترمذی, ابن ماجہ اور طبرانی (حضرت) ابو أیوب رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی, رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد 6 دن شوال میں رکھے تو ایسا ہے جیسے دہر (زمانے بھر) کا روزہ رکھا.

2- نسائی, ابن ماجہ, ابن خزیمہ اور ابن حبان (حضرت) ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے, اور امام احمد, طبرانی اور بزار (حضرت) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی, رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

جس نے عید الفطر کے بعد 6 روزے رکھ لیے تو اس نے پورے سال کا روزہ رکھا. کہ جو ایک نیکی لائے گا اسے دس ملیں گی.

تو ماہِ رمضان کا روزہ دس مہینے کے برابر ہے. اور ان 6 دنوں کے بدلے میں دو مہینے. تو پورے سال کے روزے ہوگئے.

3- طبرانی اوسط میں (حضرت) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :

جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد 6 دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے.”

(بہارِ شریعت, جلد 1, حصہ 5, ص1010, مطبوعہ: دعوتِ اسلامی)

یہ 6 روزے مستحب ہیں. فقہِ حنفی کی درجنوں کتابوں میں ان کے مستحب ہونے کی صراحت ہے.

ان میں اختیار ہے کہ چاہے انھیں ایک ساتھ لگاتار رکھیں یا الگ الگ. مگر شوال ہی کے مہینے میں یہ 6 روزے مکمل ہو جانے چاہییں. بعض فقہاے احناف فرماتے ہیں کہ عید والے ہفتے کو چھوڑ کر ہر ہفتے 2-2 روزے رکھے. اس طرح پورے ماہِ شوال پر یہ 6 روزے پھیل جائیں گے. البتہ خاص عید کے دِن نہیں رکھ سکتا. کیوں کہ اس دِن کوئی بھی روزہ رکھنا جائز نہیں.

خدا عزوجل توفیق دے تو شوال کے مہینے میں انھیں مستحب جانتے ہوئے یہ 6 روزے ضرور رکھنا چاہیے.

نوٹ : یہ مضمون ہمارے ایک مقالے کا حصہ ہے. جس میں ہم نے فقہِ حنفی میں اِن 6 روزوں کی حیثیت اور امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے ان روزوں کے بارے میں منقول ایک قولِ کراہت پر گفتگو کی ہے. کچھ گوشے تشنہ ہیں. ان شاء اللہ جلد مکمل ہو جائیں گے.

نثارمصباحی

4شوال1441ھ

28مئی2020ء