حدیث نمبر 332

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے اور ایک یتیم نے اپنے گھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں ۱؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہ نماز نفل تھی جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس کے گھر میں عطائے برکت کے لیے پڑھی جیسا کہ اس زمانہ میں صحابہ کا دستور تھا۔یتیم یا تو حضرت انس کے بھائی کا نام ہے یا کوئی اور نابالغ یتیم تھا جس کا نام زمیرہ تھا ابن ہمام نے فرمایا کہ یہ زمیرہ ابن سعدی حمیری تھے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اکیلا نابالغ بچہ صف میں کھڑا ہوگا۔دوسرے یہ کہ عورت اگرچہ اکیلی ہو مگر مردوں اور بچوں سے پیچھے کھڑی ہوگی وہ تنہا ہی صف مانی جائے گی۔