حدیث نمبر 331

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے پھر میں آیا حتی کہ آپ کی بائیں طر ف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھمایا یہاں تک کہ اپنے دائیں مجھے کھڑا کرلیا پھر جبار ابن صخر آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں کھڑے ہوگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں پیچھے کیا حتی کہ ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کرلیا ۱؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہ سارے عمل عمل قلیل کی حد تک ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی ہاتھ سے گھمایا، اور ایک ہی ہاتھ کے اشارے سے دونوں کو پیچھے کیا اور یہ دونوں حضرات ایک یا دو قدم سے پیچھے پہنچے،اگر متواتر تین قدم ڈالتے تو ان کی نماز جاتی رہتی۔خیال رہے کہ دو مقتدیوں کا امام کے برابر کھڑا ہونا مکروہ ہے اور پیچھے کھڑا ہونا بہت بہتر ہے مگر تین کا پیچھے کھڑا ہونا واجب،برابر کھڑا ہونا سخت مکروہ کیونکہ تین پوری صف ہیں، اگر دو آدمی امام کے برابر کھڑے ہوں تو ایک دائیں کھڑا ہو دوسر ا بائیں جیسا کہ مسلم شریف میں ہے کہ حضرت علقمہ اور اسود نے عبداﷲ بن مسعود کی اقتداء میں اس طرح نماز پڑھی کہ امام درمیان میں تھے اور یہ دونوں دائیں بائیں،یہ بیان جواز کے لیے تھا یا ضرورۃً۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ اس موقعہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مقتدیوں کو پیچھے کیا خود آگے نہ بڑھے کیونکہ آگے جگہ نہ تھی حجرے شریف کی دیوار تھی ورنہ ایسے موقعہ پر امام کا آگے بڑھ جانا سہل تر ہے۔