ہند کے مدرسہ جامعہ السفلیہ بنارس ہند کا نماز عیدین گھر میں پڑھنے کے جواز کا فتویٰ اور انکی پیش کردہ دلائل کا علمی و تنقیدی جائزہ بقلم اسد الطحاوی الحنفی

انکی پیش کردہ دلیلیں :

6237 – أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيَّانِ بِهَا قَالَا: ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ , ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا هُشَيْمٌ،

عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ خَادِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” كَانَ أَنَسٌ إِذَا فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعِيدِ مَعَ الْإِمَامِ جَمَعَ أَهْلَهُ فَصَلَّى بِهِمْ مِثْلَ صَلَاةِ الْإِمَامِ فِي الْعِيدِ “

وعن عطاء: ” إذا فاته العيد صلى ركعتين ليس فيهما تكبيرة “

وعن محمد بن سيرين قال: ” كانوا يستحبون إذا فات الرجل الصلاة في العيدين أن يمضي إلى الجبان فيصنع كما يصنع الإمام “

جب حضرت انس بن مالک کی امام کے ساتھ نماز عید فوت ہو جاتی تو وہ اپنے گھر والوں کو جمع کرکے نماز عید کے اماموں کی طرح عید نماز ادا کرتے

اسی طرح ایک اثر حضرت عطاء اور دوسرا امام ابن سرین کا اسی سند سے نقل کیا ہے امام بیھقی نے

(السنن الکبری )

ان دلائل کی بنیاد پر ہندی سلفی مدرسے والوں نے فتویٰ دیا ہوا ہے گھر میں عید نماز کے جواز کا

ہم انکے بیان کردہ دلائل کی اسنادی حیثیت بیان کرتے ہیں :

سند میں سب سے پہلی علت یہ ہے کہ اس میں ھشیم بن بشیر راوی جو کہ ارسال اور تدلیس کرتا تھا کثرت سے اور یہ روایت معنعنہ ہے جو کہ اصول حدیث کے مطابق ضعیف ہے

امام عجلی اس راوی کے بارے فرماتے ہیں :

1745- هشيم بن بشير: يكنى أبا معاوية: “واسطي”, ثقة, وكان يدلس، وكان يعد من حفاظ الحديث.

ہشیم بن بشیر اسکی کنیت ابو معاویہ ہے یہ ثقہ ہے اور تدلیس کرتا تھا

(الثقات )

امام ابن سعد کا تبصرہ

3466- هشيم بن بشير

الواسطي. ويكنى أبا معاوية. نزل بغداد ومات بها يوم الثلاثاء في شعبان سنة ثلاث وثمانين ومائة في خلافة هارون. وكان ثقة يدلس.

ھشیم بن بشیر الواسطی یہ ثقہ اور مدلس تھا

(الطبقات الکبری)

امام ابن عدی کا تبصرہ:

وهشيم رجل مشهور وقد كتب عنه الأئمة، وهو في نفسه لا بأس به إلا أنه نسب إلى التدليس وله أصناف وأحاديث حسان وغرائب، وإذا حدث عن ثقة فلا بأس به، وربما يؤتى ويوجد في بعض أحاديثه منكر إذا دلس في حديثه عن غير ثقة وقد روى عنه شعبة والثوري ومالك، وابن مهدي، وابن أبي عدي وغيرهم من الأئمة، وهو لا بأس به وبرواياته.

ھشیم یہ مشہور آدمی تھے ان سے ائمہ نے لکھا ہے فی نفسی ان میں کوئی مسلہ نہیں تھا سوائے یہ کہ انکو مدلس قرار دیا گیا ان سے صحیح اور غریب روایات بھی مروی ہیں

جب یہ جب یہ ثقہ سے بیان کریں تو کوئی حرج نہیں اور بیشتر اوقات یہ انکی احادیث میں نکارت بھی ہوتی ہے جب یہ تدلیس کرتے ہیں کسی غیر ثقہ سے جب ان سے

شعبہ

ثوری

مالک

ابن مھدی

اور

ابن ابی عدی وغیرھم ائمہ میں سے بیان کریں تو اس کی روایت میں کوئی حرج نہیں

(الکامل ابن عدی )

امام ذھبی کا تبصرہ

5979- هشيم بن بشير أبو معاوية السلمي الواسطي حافظ بغداد عن عمرو بن دينار وأبي الزبير وعنه أحمد وابن معين وهناد إمام ثقة مدلس عاش ثمانين سنة توفى 183 ع

ھشیم بن بشیر یہ ثقہ اور مدلس ہے

(الکاشف امام ذھبی)

اور سیر اعلام میں فرماتے ہیں :

قلت: كان رأسا في الحفظ، إلا أنه صاحب تدليس كثير

میں (الذھبی) کہتا ہوں یہ کہ یہ بڑے اچھے حافظے کے مالک تھے سوائے یہ کہ یہ کثرت سے تدلیس کرتے تھے

(سیر اعلام النبلاء برقم:76)

امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ؛

7312- هشيم بالتصغير ابن بشير بوزن عظيم ابن القاسم ابن دينار السلمي أبو معاوية ابن أبي خازم بمعجمتين الواسطي ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي من السابعة مات سنة ثلاث وثمانين وقد قارب الثمانين ع

ھشیم بن بشیر ابو معاویہ الواسطی یہ ثقہ ثبت اور کثیر التدلیس تھا اور یہ ارسال خفی کا مرتکب بھی تھا

(تقریب التہذیب)

جیسا کہ امام العلل احمد بن حنبل اسکے بارے فرماتے ہیں :

هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ الْوَاسِطِيُّ

863 – أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِيمَا كَتَبَ إِلَيَّ بِهِ قَالَ قَالَ أَبِي َلْمَ يَسْمَعْ هُشَيْمٌ مِنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ وَلَا مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَلَا مِنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ولامن مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ وَلَا مِنْ أَبِي خَلْدَةَ وَلَا مِنْ سَيَّارٍ وَلَا مِنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَلَا من الْحسن بن عبيد الله شَيْئًا وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُمْ وَعَنِ الْعُمَرِيِّ الصَّغِيرِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ

864 – قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ هُشَيْمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْقَاسِمِ الْأَعْرَجِ إِنَّمَا سَمِعَهَا مِنْ أصْبع الْوراق

864 – ب قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ أَبِي لَمْ يَسْمَعْ هُشَيْمٌ مِنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ شَيْئًا

865 – قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي َلْمَ يَسْمَعْ هُشَيْمٌ من زَاذَان والدمنصور بْنِ زَاذَانَ 866 – قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ لَمْ يَسْمَعْ هُشَيْمٌ مِنْ أَبِي سِنَانٍ يَعْنِي ضِرَارَ بْنَ مُرَّةَ الشَّيْبَانِيَّ شَيْئًا

867 – قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ لَمْ يَسْمَعْ هُشَيْمٌ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيِّ شَيْئًا وَقَدْ َحَدَّثَنَا عَنْهُ بِحَدِيث الشَّفَقِ الْحُمْرَةِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ بَيَانٍ شَيْئًا

868 – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِسِنْجَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الْهَرْوِيَّ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ الْهَرْوِيَّ يَقُولُ لَمْ يَسْمَعْ هُشَيْمٌ مِنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا حَدِيثَ الْمُدَارَاةِ وَكَانَ يُدَلِّسُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ أَكْثَرَ مِمَّا يُدَلِّسُ عَنْ حُصَيْنٍ

869 – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِسِنْجَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرْوِيَّ يَقُولُ هُشَيْمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ بَيَانٍ كَلِمَةً قَطُّ

(الكتاب: المراسيل ابی حاتم )

امام احمد بن حنبل نے کثیر ان راویان کا نام بیان کر دیے جس سے ھشیم عن سے بیان کرتا تھا یا تو کسی سے اسکی ملاقات ہی نہیں ارسال کرتا تھا اور باقیون سے تدلیس کرتا تھا

جیسا کہ

امام احمد کا مذید کلام یون ہے :

2226 – ذكرت لأبي حديثا حدثنا أبو الربيع الزهراني قال حدثنا هشيم عن عبيد الله بن أبي بكر عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يفطر على تمرات فأنكر من حديث هشيم عن عبيد الله وقال أبي إنما كان هشيم يحدث به عن محمد بن إسحاق عن حفص بن عبيد الله بن أنس عن أنس قال أبي وإنما حدثناه علي بن عاصم عن عبيد الله بن أبي بكر

امام عبداللہ کہتے ہین میرے والد کے سامنے یہ حدیث ذکر کی گئی جسکو بیان کیا ابو ربیع الزھرانی نے وہ کہتا ہے مجھے بیان کی ھشیم نے عن عبیداللہ بن ابی بکر وہ عن انس سے

تو امام احمد نے اسکو منکر قرار دیا کہ ھشیم کی عبیداللہ کے طریق کو

اور کہا امام احمد نے کہ ھشیم اسکو محمد بن اسحاق سے حفص بن عبیداللہ بن انس کے طریق سے حضرت انس سے بیان کرتا تھا

جسکو بیان کیا ہے علی بن عاصم نے عبیداللہ بن ابی بکر سے

یعنی امام احمد نے ھشیم سے عبیداللہ بن ابی بکر کے طریق کو منکر قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ روایت حفص بن عبیداللہ بن ابی بکر سے بیان کرتا تھا محمد بن اسحاق کے طریق سے نہ کہ عبیداللہ بن ابی بکر بن انس سے

(العلل ومعرفة الرجال برقم: 2226)

اسی طرح امام عبداللہ اپنے والد امام احمد سے سوال کرتے ہیں :

• وقال عبد الله: حدثني أبي. قال: حدثنا هشيم، عن خالد، عن ابن سيرين ومغيرة، عن إبراهيم. وأبو إسحاق، عن الشعبي، أنهم قالوا: في ثلاثة قتلوا رجلاً. قال لوليه: أن يأخذ الدية ممن شاء، ويعفو عمن شاء. سمعتُ أَبي يقول: لم يسمع هشيم من واحد منهما،

کہ امام عبداللہ نے اپنے والد سے ھشیم کے باارے پوچھا

عن خالد

عن ابن سیرین ومغیرہ

عن ابراھیم و ابو اسحاق

عن الشعبی

کے طریق سے تو امام احمد نے کہ ھشیم نے ان میں سے کسی ایک سے بھی نہیں سنا

(موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله ، 4 جلد ، 50 ص)

تو ھشیم نے جو حضرت عطاء اور ابن سیرین سے جو اثر بیان کیے ہیں وہ بھی سب غیر ثابت ہوئے

یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی نے طبقات المدلسین میں ھشیم بن بشیر کو طبقہ ثالثہ کا مدلس قرار دیا ہے جو کثرت سے ضعیف اور راویان سے تدلیس کرتا ہے اور زبیر زئی پارٹٰ تو طبقات کی ہی منکر ہے بلکہ وہ کسی ایک بھی راوی کی تدلیس پر مطلع ہو جائیں تو اسکی کوئی روایت بھی قبول نہیں کرتی زبیر زئی پارٹی

امام ابن حجر کاتبصرہ :

المرتبة الثالثة

(111) ع هشيم بن بشير الواسطي من أتباع التابعين مشهور بالتدليس مع ثقته وصفه النسائي وغيره بذلك ومن عجائبه في التدليس أن أصحابه قالوا له نريد أن لا تدلس لنا شيئا فواعدهم فلما أصبح أملى عليهم مجلسا يقول في أول كل حديث منه ثنا فلان وفلان عن فلان فلما فرغ قال هل دلست لكم اليوم شيئا قالوا لا قال فان كل شئ حدثتكم عن الاول سمعته وكل شئ حدثتكم عن الثاني فلم اسمعه منه قلت فهذا ينبغي أن يسمي تدليس العطف

(طبقات المدلسین )

اور اپنے اس باطل فتوے کی تائید میں سلفی مدرسے والوں نے اپنے محدث ناصر البانی صاحب کا بھی حوالہ دیا ہے لیکن یہ بات انہوں نے چھپا لی کہ انکے امام العصر ناصر البانی صاحب بھی اس روایت کو ضعیف گردان گئے تھے

جیسا کہ ہو اپنی تصنیف میں اس روایت کے تحت لکھتے ہیں:

(648) – (روى عن أنس ” أنه إذا لم يشهدها (أى صلاة العيد) جمع أهله ومواليه ثم قام عبد الله بن أبى عتبة مولاه فصلى بهم ركعتين يكبر فيهما “.

  • ضعيف.

رواه البيهقى (3/305) تعليقا فقال: ” ويذكر عن أنس بن مالك أنه كان إذا كان بمنزله بالزاوية , فلم يشهد العيد بالبصرة , جمع مواليه وولده , ثم يأمر مولاه عبد الله بن أبى عتبة فيصلى بهم كصلاة أهل المصر ركعتين , ويكبر بهم كتكبيرهم “

ورواه موصولا من طريق نعيم بن حماد حدثنا هشيم عن عبيد الله بن أبى بكر بن أنس بن مالك خادم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” كان أنس إذا فاتته صلاة العيد مع الإمام جمع أهله فصلى بهم مثل صلاة الإمام فى العيد “.

قلت: وهذا سند ضعيف فإن نعيم بن حماد ضعيف لكثرة خطئه.

ورواه ابن أبى شيبة (2/9/1) من طريق يونس قال: حدثنى بعض آل أنس: ” أن أنسا كان ربما جمع أهله وحشمه يوم العيد فصلى بهم عبد الله بن أبى عتبة ركعتين “.

ورجاله ثقات غير البعض المذكور فلم أعرفه , ويحتمل أن يكون هو عبيد الله بن أبى بكر بن مالك بن أنس , كما فى رواية نعيم بن حماد ولكنه لا يحتج به لما عرفت.

وقد روى عن ابن مسعود خلاف ذلك , فقال الشعبى: قال عبد الله بن مسعود: ” من فاته العيد فليصل أربعا “.

أخرجه ابن أبى شيبة (2/9/1) والمحاملى (2/137/2) والطبرانى فى ” الكبير ” كما فى ” المجمع ” (2/205) وقال: ” ورجاله ثقات “. قلت ولكنه منقطع لأن الشعبى لم يسمع من ابن مسعود كما قال الدارقطنى والحاكم.

البانی صاحب نے حضرت انس کی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے جو بعداللہ بن عتبہ سے ہے

اس کے بعد امام بیھقی کے حوالے سے تعلیقا حضرت عنس سے روایت ذکر کی ہے

اسکے بعد البانی صاحب کہتے ہیں اس روایت کو موصولا نعیم بن حماد نے ہشیم کے طریق سے عبیداللہ سے حضرت انس سے بیان کیا ہے لیکن میں

(البانی ) کہتا ہو کہ یہ سند ضعیف ہے نعیم بن حماد کے ضعف کی وجہ سے جو کثرت سے خطاء کرتا تھا

اور ابن ابی شیبہ نے یونس کےطریق سے بیان کیا ہے لیکن اسکی سند میں بعض آل انس لکھا ہے

اسکے سارے رجال ثقہ ہیں لیکن بعض آل سے مراد کون ہیں معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ یہ عبیداللہ بن ابی بکر بن مالک بن انس ہو جیسا کہ نعیم بن حماد نے بیان کیا لیکن اس سے احتجاج نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہی ہو

اور ابن مسعود سے اسکے خلاف مروی ہے امام شعبی کے طریق سے

جسکی تخریج امام ابن ابی شیبہ اور الحاملی اور طبرانی نے اسکے رجال ثقات سے

لیکن میں (البانی ) کہتا ہوں کہ اسکی سند منطقع ہے اور امام شعبی کا سماع ابن مسعود سے نہیں جیسا کہ امام دارقطنی اور امام حاکم نے بیان کیا ہے

(إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل)

تو اس روایت کو تو وہابیون کے محدث اعظیم البانی صاحب نے بھی ضعیف گردانا ہے تو انکا فتویٰ اسکے برعکس کیسے قبول کیا جائے گا ؟

تو پہلے اس علت کا جواب سلفی مدرسے والے اصولا دے سکتے ہیں تو پیش کریں

پھر نعیم بن حماد کی باری آئے گی

ابھی تو سند میں تدلیس اور طبقہ ثالثہ کے مدلس کی وجہ سے ہی یہ روایت ضعیف ہے اور احتجاج کے قابل نہیں

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی