أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاۡتِيٰهُ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلَا رَبِّكَ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَا تُعَذِّبۡهُمۡ‌ ؕ قَدۡ جِئۡنٰكَ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكَ‌ ؕ وَالسَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الۡهُدٰى ۞

ترجمہ:

سو اس کے پاس جائو پھر اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے اور ان کو ایذا نہ دے، بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے تیرے پاس نشانی لے کر آئے ہیں اور اس پر سلام ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی

طہ : 47 میں فرمایا اس پر سلام ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی۔

سلام کا معنی سلامتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص ہدایت کی پیروی کرے گا وہ سلامت رہے گا اور عارف باللہ ہدایت کی پر یوی کرتا ہے سو وہ سلامتی والا ہے۔ زجاج نے کہا یہ خبر ہے، سلام تحیت نہیں ہے اور اس میں خبر دی گئی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہدیات کی پیروی کرے گا وہ اس کی ناراضگی اور اس کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔

اللہ کے دشمنوں سے ڈرنا انبیاء (علیہم السلام) اور صحابہ کی سنت ہے 

ان ایٓتوں میں یہ ذکر ہے کہ فرعون کے دربار میں تبلیغ کے لئے جانے سے پہلے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے دل میں خوف ہوا کہ وہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی کرے گا یا ان کو قتل کر دے گا۔ اس آیت میں ان جاہل صوفیا کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ والوں کو اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ ان کا یہ قول اس لئے باطل ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معفرت ہوتی ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی نصرت پر سب سے زیادہ اعتماد ہے اس کے باوجود ان کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے ڈر اور خوف ہوتا ہے۔

کسی شخص نے حسن بصری سے یہ کہا کہ عامر بن عبداللہ شام کی طرف جا رہے تھے وہ پانی پینے کے لئے ایک جگہ جانا چاہتے تھے تو ان کے اور پانی کے درمیان ایک شیر حائل ہوگیا۔ عامر پانی کی طرف گئے اور پانی پی کر اپنی حاجت پوری کی۔ ان سے یہ کہا گیا کہ آپ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیا تھا۔ عامرنے کہا اگر میرے پیٹ میں نیزے گھونپ دیئے جائیں تو وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہیں کہ میں اللہ کے علاوہ کسی اور سے ڈروں 

حسن بصری نے اس شخص کو جواب دیا کہ جو شخص عامر بن عبداللہ سے بہت افضل تھے وہ اللہ کے غیر سے ڈرے تھے اور وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ قرآن مجید میں ان کے متعلق ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک قبطی کو تادیباً گھونسا مارا اور وہ ہلاک ہوگیا :

فخرج منھا خآنفا یتررقب قال رب نجنی من القوم الظالمین (القصص :21) سوموسٰی اس شہر سے ڈرتے ہوئے نکلے وہ انتظار کر رہے تھے (کہ اب کیا ہوگا) انہوں نے دعا کی اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے نجات دے دے۔ اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جادوگروں سے مقابلہ ہوا اور انہوں نے لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو اچانک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خیال ہوا کہ ان کے جادو سے ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہیں ہیں :

فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ قلنا لاتخف انک انت الاعلی (طہ :67-68) تو موسیٰ نے اپنے دل میں یہ خوف پایا (کہ لوگ اس سے متاثر نہ ہوں) ہم نے فرمایا تم ڈرو نہیں بیشک تم ہی غالب رہو گے۔

علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کی جانوں اور مالوں کی حفاظت کے لئے مدینہ کے گرد جو خندق کھودی تھی وہ بھی اسی قبیل سے تھی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد کرنے میں جو آپ کا مقام تھا اس مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے متعلق سب کو علم ہے کہ انہوں نے کفار مکہ کے خوف سے اپنے گھروں کو چھوڑا۔ پہلی بار انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور دوسری بار مدینہ کی طرف ہجرت کی تاکہ مشرکین مکہ سے اپنی جانوں کو بچائیں اور دین اسلام کی وجہ سے کفار ان کو جسم قسم کے فتنوں اور عذاب میں مبتلا کرتے تھے اس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے متعلق خبر ملی تو اس وقت ہم یمن میں تھے، سو ہم بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کرنے کی نیت سے نکل ڑے۔ میں اور میرے دو بھائی ابوہریرہ اور ابورہم تھے اور میں ان سے چھوٹا تھا۔ ہمارے ساتھ اور بھی مسلمان تھے جو پچاس سے زائد تھے۔ ہم (مدینہ پہنچنے کے لئے) کشتی میں سوار ہوئے لیکن ہماری کشتی میں نجاشی کے ملک حبشہ میں لے گئی وہاں ہماری ملاقات حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) سے ہوئی۔ ہم بھی وہیں ٹھہر گئے حتیٰ کہ ہم سب اکٹھے وہاں مدینہ پہنچے۔ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہنے لگے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے، حضرت اسماء بنت عمیس (رض) جو ہمارے ساتھ ہی مدینہ آئیں تھیں وہ حضرت ام المومنین حفصہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں وہ بھی نجاشی کے ملک میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ حضرت عمر (رض) نے انہیں دیکھا تو پوچھا یہ کون ہی، حضرت حفصہ نے بتایا کہ یہ اسماء بنت عمیس ہیں۔ حضرت عمر (رض) فرمایا ہم ہجرت میں تم سے سابق ہیں اور ہم تمہاری بہ نسبت رسول الہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ حق دار ہیں۔ یہ سن کر حضرت اسماء غصہ میں آگئیں انہوں نے کہا ہرگز نہیں ! تم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہے ہو تم میں سے جو بھوکا ہوتا تھا ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھلاتے تھے اور جو دین سے ناواقف ہوتا تھا اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نصیحت کرتے تھے اور ہم بہت دور دراز علاقے میں دشمنوں کے ساتھ رہتے تھے اور ہماری یہ ہجرت اللہ کے راستے میں اور اس کے رسول اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تھی اور اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک کچھ کھائوں گی نہ کچھ پیوں گی حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کروں جو کچھ تم نے کا ہے اور ہم لوگوں کو اذیت دی جاتی تھی اور ہم کو ڈرایا جاتا تھا اور میں ابھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کروں گی اور آپ سے اس کے متعلق سوال کروں گی، اور اللہ کی قسم ! میں جھوٹ بولوں گی نہ کج روی اختیار کروں گی اور نہ اس بات میں کوئی اضافہ کروں گی۔ سو جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو حضرت اسماء نے کہا : یا نبی اللہ ! بیشک عمر نے اس طرح کہا ہے آپ نے پوچھا پھر تم نے اس سے کہا کہا ؟ تو میں نے کہا میں نے اس اس طرح کہا۔ آپ نے فرمایا ان کا مجھ پر تم سے زیادہ حق نہیں ہے۔ ان کے لئے اور ان کے اصحاب کے لئے ایک ہجرت ہے اور تمہارے لئے تم جو کشتی کے ذریعہ آنے والے ہو دو ہجرتیں ہیں۔ اس واقعہ کے بعد میں نے دیکھا کہ ابو موسیٰ اور کشتی والے فوج در فوج میرے پاس آنے لگے وہ مجھ سے اس حدیث کے متعلق سوال کرتے تھے اور ان کے نزدیک دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز اتنی عظیم اور خوشی کا باعث نہیں تھی جتنی خوش کا باعث ان کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد تھا۔ (صحیح البخاری رقم الدیث :4230 صحیح مسلم رقم الحدیث 2503-2502)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ اللہ کے دشمنوں کے خوف کی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اپنے گھروں سے ہجرت کی۔ بعض نے ایک بار اور بعض نے دو بار ہجرت کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تعریف اور تحسین فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے بنو آدم کے دلوں میں یہ ڈر اور خوف مرکوز کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اور ان کی طلباء ع میں یہ چیز رکھی ہے کہ وہ ضرر دینے والی اور تکلیف پہنچانے والی اور تلف اور ضائع کردینے والی چیزوں سے ڈر کر بھاگتے ہیں اور جنگل میں پھاڑنے والے درندوں سے بڑھ کر نقصان پہنچانے والی اور کون سی چیز ہوگی جبکہ انسان کے پاس مدافعت کے لئے کوئی آلہ اور ہتھیار بھی نہ ہو، سو جو شخص اس کے خلاف کہتا ہے وہ جھوٹا ہے اور بڑ ھانکتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 47