أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّىۡ فِىۡ كِتٰبٍ‌‌ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّىۡ وَلَا يَنۡسَى ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے کہا اس کا علم میرے رب کے پاس لوح محفوظ میں ہے، میرا رب نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے

نہ وہ غلطی کرتا ہے نہ وہ بھولتا ہے کے محامل 

جب فرعون نے یہ پوچھا کہ پچھلی قوموں کا کیا حال ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فرمایا : اس کا علم میرے رب کے پاس لوح محفوظ میں ہے، میرا رب نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوا ہے یا ہونے والا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب میں لکھ دیا ہے اور وہ کتاب یعنی لوحخ محفوظ فرشتوں پر ظاہر کردی گئی ہے تاکہ وہ اس پر زیادہ استدلال کرسکیں کہ اللہ تعالیٰ تمام معلومات کا عالم ہے اور وہ سہو اور غفلت سے منزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے ” وہ نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے “ اس کے علماء نے حسب ذیل محامل بیان کئے ہیں :

(١) قفال نے کہا وہ غلطی نہیں کرتا اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ تمام معلومات کا عالم ہے اور وہ بھولتا نہیں ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ اس کا عالم دائمی ہے۔ ابدالا باد تک باقی رہنے والا ہے۔ اس میں کوئی تغیر نہیں ہے۔

(٢) مقاتل نے کہا اس کتاب میں میرا رب کوئی خطاء نہیں کرتا اور نہ اس میں لکھے ہوئے کو بھولتا ہے۔

(٣) حسن بصری نے کہا وہ حشر کے قوت میں کوئی خطا نہیں کرتا اور نہ اس کو بھولتا ہے۔

(٤) ابوعمرہ نے کہا نہ وہ کسی چیز سے غائب ہوتا ہے، نہ اس سے کوئی چیز غائب ہوتی ہے۔

(٥) ابن جریر نے کہا وہ تدبیر میں خطا نہیں کرتا کہ نا درست کو درست اعتقاد کرلے اور وہ تمام اشیاء کو جانتا ہے اور ان کو بھولتا نہیں ہے۔

لکھنے کے جواز کے متعلق قرآن مجید کی آیات 

اس آیت میں مذکور ہے کہ اس کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے۔ اس آیت میں لکھنے کا ثبوت ہے اور اس کی تائید میں حسب ذیل آیات ہیں :

وکتبنا لہ فی الالواح میں کل شی موعظۃ (الاعراف :145) اور ہم نے موسیٰ کو تختیوں پر ہر چیز کی نصیحت لکھ کردی۔

ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون (الانبیاء :105) اور ہم زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔

واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ (الاعراف 156) ض اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔

وکل شی فعدوہ فی الزبر وکل صغیر و کبیر مستطر (القمر :52-53) ہر وہ کام جو انہوں نے کیا ہے وہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ہر چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔

الذین علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا جس نے انسان کو وہ سب سکھایا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔

علم کی باتوں اور احادیث کے لکھنے کے جواز کے متعلق احادیث 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور آپ کے ہاتھ میں دو کاتبیں تھیں آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیسی دو کاتبیں ہیں ؟ ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ الآیہ کہ آپ ہمیں خبر دیں ! آپ کے دائیں ہاتھ میں جو کتاب تھی اس کے متعلق آپ نے فرمایا یہ کتاب رب العلمین کی طرف سے ہے اس میں اہل جنت کے اسماء ہیں او ان کے آباء کے اسماء ہیں اور ان کے قبائل کے اسماء ہیں پھر آخر میں ان کا میزان کردیا گیا ہے۔ ان میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ کوئی کمی کی جائے گی۔ پھر اس کتاب کے متعلق فرمایا جو آپ کے بائیں ہاتھ میں تھی یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے اس میں اہل دوزخ کے اسماء ہیں اور ان کے آباء کے اسماء ہیں اور ان کے قبائل کے اسماء ہیں پھر آخر میں ان کا میزان کردیا گیا ہے، اس میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ کوئی کمی کی جائے گی کبھی بھی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2141، مسند احمد ج ١ ص 167، المسند الجامع رقم الحدیث :8726)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار سے ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھتا تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث سنتا تھا۔ اس کو وہ حدیث اچھی لگتی تھی اور یاد نہیں رہتی تھی۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی اور کہا یا رسول اللہ ! میں آپ کی حدیث سنتا ہوں وہ مجھے اچھی لگتی ہے اور میں اس کو یاد نہیں رکھ سکتا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو، اور آپ نے ہاتھ سے لکھنے کا اشارہ کیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2666، الکامل لابن عدی ج ٣ ص 928، مجمع الزوائد ح ۃ ص 152، کنزل العمال رقم الحدیث :29305) 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کے دن جو خطبہ دیا تھا آپ نے فرمایا یہ خطبہ ابو شاہ کے لئے لکھ دو ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 113، سنن ابو دائود رقم الحدیث :2668، مسند احمد ج ہص 238، سنن دارمی رقم الحدیث :2603)

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں میں ہر اس بات کو لکھ لیتا تھا جس کو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنتا تھا، میں اس کو محفوظ کرنے کا ارادہ کرتا تھا، پھر مجھے قریش نے منع کیا اور کہا تم ہر اس بات کو لکھ لیتے ہو جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنتے ہو اور رسول اللہ بشر ہیں آپ غصہ میں بھی بات کرتے ہیں اور خوشی میں بھی۔ پھر میں نے لکھنا چھوڑ دیا پھر میں نے اس بات کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : تم لکھتے رہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اس (منہ) سے حق کے سوا اور کوئی بات نہیں نکلتی۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :3646، مسند احمد ج ٢ ص 162، سنن الدارمی، رقم الحدیث :484)

حضرت رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ نے فرمایا تم حدیث سے بیان کرو اور جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ سے بہت سی چیزیں سن کر لکھ لیتے ہیں آپ نے فرمایا لکھو اور کوئی حرج نہیں ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :4410، مسند الشایین رقم الحدیث :227، مجمع الزوائد، ج ١ ص 151، کنزالعمال رقم الحدیث :29217)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کے اصحاب بیٹھے ہوئے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا اور میں ان میں سب کم عمر تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے مجھ پر عمداً جھوٹ بادنھا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔ جب وہ لوگ آپ کے پاس سے اٹھ کر آئے تو میں نے کہا آپ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث بیان کرنے میں منہمک رہتے ہیں، وہ سب ہنسنے لگے اور کہنے لگے اے بھتیجے ! ہم جو کچھ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنتے ہیں وہ ہمارے پاس لکھا ہوا ہے۔

(مجمع الزوائد جۃ ص 152، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اس کی سند میں اسحاق بن یحییٰ متروک ہے)

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آیا میں علم کو مقید کروں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! میں نے پوچھا کیسے قید کروں ؟ فرمایا : لکھ کر۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :852، المستدرک ج ١ ص 106)

ثمامہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انسان (رض) نے فرمایا علم کو لکھنے کے ساتھ مقید کرو۔ (سنن دارمی رقم الحدیث :491)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے حافظہ میں کمی کی شکایت کی آپ نے فرمایا تم اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :2846)

ابو المسیح نے کہا یہ لوگ ہمارے لکھنے کی مذمت کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے علمھا عند ربی فی کتاب، (طہ 52) اس کا علم میرے رب کے پاس ایک کاتب میں ہے۔

حضرت عبدا للہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ کی احادیث کو یاد کرنے سے محبت رکھتا ہوں لیکن میرے دل میں یاد نہیں رہتیں کیا میں اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لوں ؟ آپ نے فرمایا اگر تم چاہو، اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (اتحاف السادۃ المہۃ رقم الحدیث :402، المطالب العالیہ رقم الحدیث :3014)

لکھنے کی ممانعت کی احادیث اور ان کے جوابات 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ہم کو اجازت نہیں دی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2665، سنن الدارمی رقم الحدیث :457)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ مت لکھو، اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ لکھا ہے وہ اس کو مٹا دے (صحیح مسلم رقم الحدیث :3004 مسند احمد ج ١ ص 12، 21، 39، ًٰ 56 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :64، مسند ابویعلی رقم الحدیث :1288، المستدرک ج ١ ص 26-27) 

ہم اس سے پہلے لکھنے کے جواز میں احادیث بیان کرچکے ہیں اور یہ حدیثیں لکھنے کے خلاف ہیں علماء نے ان میں تطبیق کی حسب ذیل وجوہ بیان کیں ہیں۔

(١) یہ ممانعت نزول قرآن کے وقت کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ اگر نزول قرآن کے وقت کچھ اور بھی لکھا گیا تو قرآن کے ساتھ غیر قرآن کے التباس کا خطرہ ہے اور اس وقت کے بعد لکھنا جائز ہے۔

(٢) یہ ممانعت قرآن کے ساتھ ملا کر لکھنے کے ساتھ مخصوص ہے اور اگر الگ الگ لکھا جائے تو جائز ہے۔

(٣) ابتدا میں آپ نے لکھنے سے منع فرمایا تھا بعد میں لکھنے کی اجازت دے دی، سو ممانعت کی احادیث کو یاد نہیں کرتے تھے۔

(٥) قاضی عیاض نے کہا ہے کہ متقدمین صحابہ اور تابعین کا علم کی باتوں کے لکھنے میں اختلاف تھا، بعض نے لکھنے کو مکروہ کہا اور بعض نے بلا کراہت اجازت دی، پھر مسلمانوں کا لکھنے کے جواز پر اجماع ہوگیا اور یہ اختلاف زائل ہوگیا، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن عمرو کو لکھنے کی اجازت دی تھی۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٨ ص 553، مطبوعہ دارالوفاء بیروت، 1419 ھ)

(٦) خطیب بغددی نے کہا صدر الاول میں لکھنے کو مکروہ کہا گیا تھا کیونکہ یہ خدشہ تھا کہ کوئی چیز کتاب اللہ کے مشابہ نہ ہوجائے یا قرآن مجید کے علاوہ دوسری چیزوں کے ساتھ لکھنے میں لوگ مغشول ہوجائیں یا لوگ کتب قدیمہ کے لکھنے میں مغشول ہوجائیں اور صحیح اور غلط میں تمیز نہ کرسکیں، جب کہ ان کے لئے قرآن مجید کو ہی لکھنا کافی تھا اور یہ خطرہ تھا کہ ناواقف لوگ دوسری کتابوں کی باتیں قرآن مجید میں لکھ دیں گے کیونکہ اس وقت فقہاء اور علماء کی مجلس میں بیٹھنے والے کم تھے۔ (تقبید العلم ص 64-65)

(٧) جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھنے کی اجازت دے دی ہے تو احادیث کا لکھنا ضروری ہے کیونکہ قرآن مجید کے مجمل احکام کی احادیث سے وضاحت ہوتی ہے، اگر احادیث نہ ہوں تو ہم نماز، روزے اور دیگر ارکان اور عبادات کی معرفت حاصل نہیں کرسکتے اور جس چیز پر واجب موقوف ہو وہ بھی واجب ہوتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 52