أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى‏ ۞

ترجمہ:

فرعون نے کہا تو پہلی قوموں کا کیا حال ہوا ؟

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دلیل سے فرعون کا پریشان ہونا 

طہ :51 میں ہے : فرعون نے کہا تو پہلی قوموں کا کیا حال ہوا ؟ سابقہ آیات کے ساتھ اس آیت کے ربط کی حسب ذیل وجود ہیں :

(١) جب اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور توحید پر اس قدر واضح دلائل ہیں تو پہلی قوموں نے اس کی توحید اور الوہیت کو کیوں نہیں مانا، گویا فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مضبوط اور قوی عقلی دلائل کا تقلید کے ساتھ معارضہ کیا۔

(٢) اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرممایا تھا جو اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرے گا اور اس سے پیٹھ پھیرے گا اس کو عذاب ہوگا تو اس پر فرعون نے کہا گزشتہ قوموں نے اللہ تعالیٰ کی تکذیب کی تھی ان پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ اس کا جواب واضح تھا کہ جو قومیں حجت پوری ہونے کے بعد بھی اپنی تکذیب پر برقرار رہیں ان پر ایسا عذاب آیا جس نے ان قوموں کو ملیا میٹ کر رکے رکھ دیا۔

(و) جب حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی الوہیت پر واضح دلیل قائم کردی تو رفعون کو خطرہ ہوا کہ یہ اگر اس طرح دلائل قائم کرتے رہے تو لوگوں پر اس کی خدائی کا جھوٹ کھل جائے گا اور لوگ اس سے منحرف ہوجائیں گے اس لئے اس نے گفتگو کا رخ بدلنے کے لئے کہا اچھا بتائو کہ سابقہ قوموں میں سے جو ایمان نہیں لائے ان کا کیا حال ہوا تھا !

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 51