أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰى‏ ۞

ترجمہ:

اس نے کہا پھر تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اے موسیٰ

تفسیر:

مباحثہ میں فریق مخالف پر سختی کرنے کے بجائے نرمی سے دلائل پیش کرنا 

فرعون بہت طاقت ور بادشاہ تھا اور اس کا بہت بڑا لشکر تھا اور وہ اپنے خدا ہونے کا مدعی تھا۔ اس کے باوجود جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دی تو اس نے صبر اور ضبط سے کام لیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سختی کرنے اور ان کو ایذا پہنچانے کا کوئی اقدام نہیں کیا اور اس کے بجائے حضرت موسیٰ سے دلائل کے ساتھ بحث کرنی شروع کردی کیونکہ اگر وہ اپنے خلاف بات سن کر بھڑک جاتا اور حضرت موسیٰ کو اذیت دینا شروع کردیتا تو لوگ اس کی مذمت کرتے اور کہتے کہ جس کے پاس دلائل نہیں ہوتے یا جو لاجواب ہوجاتا ہے وہ اپنے مقابل کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کرتا ہے، سو یہ وہ طریقہ ہے جس کو فرعون نے اپنے کفر اور اپنی جہالت کے باوجود پسند نہیں کیا جو شخص علم اور اسلام کا مدعی ہو اس کو یہ لاحئق نہیں کہ وہ دلائل سے بات کرنے کے بجائے سختی کرنے اور ہاتھا پائی پر اتر آئے۔

پھر جب فرعون نے حضرت موسیٰ سے سوال کیا کہ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ تو حضرت موسیٰ نے اس کے سوال کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر دلائل قائم کرنے شروع کردیئے، اس سے معلوم ہوا کہ قعئاد کے باب میں کسی کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معرفت پر مقدم ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلائل قائم کئے اور اپنی نبوت اور رسالت پر پہلے دلائل قائم نہیں کئے۔

ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مخالف کافر کے قول اور اس کی شبہات کو بھی نقل کرنا جائز ہے کیونکہ ان آیات میں فرعون کے اقوال اور اس کے شبہات کو نقل فرمایا ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ اس کے شبہات کے جوابات بھی پیش کئے جائیں تاکہ کسی عام آدمی کے ذہن میں اسلام کے خلاف شکوک اور شہبات پیدا نہ ہوں۔ نیز تبلیغ کرنے میں مخالف کی بات صبر و سکون سے سنی جائے پھر طیش اور غضب میں آئے بغیر اطمینان اور تسلی سے اس کے جوابات دیئے جائیں جیسا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے ساتھ یہی طریقہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ :

(النحل :125) اپنے رب کی طرف لوگوں کو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلایئے اور بہترین طریقہ سے ان سے گفتگو کیجیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 49