أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَـكَ يٰمُوۡسٰى‏ ۞

ترجمہ:

فرمایا اے موسیٰ ! تمہارا سوال پورا کردیا گیا

حضرت موسیٰ کی دعائوں کو باریاب کرنے کی وجوہ 

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کہے ہوئے آٹھ سوالات کو پورا فرمایا اور ان کی دعائوں کو باریاب فرمایا تکہ وہ وسعت قلب اور فرحت کے ساتھ کار نبوت کو پورا کرنے کے لئے روانہ ہوں، اس لئے فرمایا اے موسیٰ ! تمہار اسوال پورا کردیا گیا، اس کے بعد فرمایا۔ بیشک (اس سے پہلے بھی) ہم نے ایک بار اور آپ پر احسان فرمایا تھا اس میں حسب ذیل وجوہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعائوں کے قبول کرنے کی وجوہ پر متنبہ فرمایا ہے :

(١) اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ میں تمہارے ان سوالوں سے پہلے بھی تمہاری مصلحت کے تقاضوں کو پورا کرچکا ہوں تو اب تمہاری دعائوں کو کیوں قبول نہیں کروں گا۔

(٢) میں اس سے پہلے تمہاری پرورش کرچکا ہوں اگر اب میں تمہاری مراد پوری نہ کروں تو یہ قبول کرنے کے بعد رد کرنا ہوگا اور احسان کرنے کے بعد محروم کرنا ہوگا اور یہ فعل میرے کرم کے کب لائق ہے۔

(٣) جب ہم ماضی میں تمہاری ہر ضرورت کو پورا کرچکے ہیں اور تمہیں نچلے درجہ سے درجہ عالیہ میں پہنچا چکے ہیں تو اب اس مرتبہ پر پہنچا کر تمہاری درخواست کو رد کردینا ہماری شان کے کب لائق ہوگا !

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 36