أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَىۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًا ۞

ترجمہ:

تاکہ ہم تیری بہت تسبیح کریں

حضرت موسیٰ کی ان دعائوں کا سبب 

پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ عرض کیا کہ میں نے یہ دعائیں اس لئے کی ہیں کہ ہم تیری بہ تسبیح کریں اور تجھے بہت زیاد کریں۔ تسبیح کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اس کے افعال کی ان چیزوں سے برأت بیان کی جائے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں، خواہ دل میں اس برأت کا اعتقاد رکھا جائے یا زبان سے اس کی برأت کو بیان کیا جائے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کو یاد کرنے کا بھی ذکر ہے، ذکر کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کمالیہ اور اس کی صفات جمال اور اس کی صفات جلال کو بیان کرنا، پس تسبیح کرنے کا معنی ہے نامنساب صفات کی اس سے نفی کرنا اور ذکر کا معنی ہے اس کی شان کے لائق صفات کا ذکر کرنا۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 33