أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰرُوۡنَ اَخِى ۞

ترجمہ:

میرے بھائی ہارون کو

وزارت کے لئے بھائی کی تخصیص کی وجہ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پانچواں سوال یہ تھا کہ وہ وزیر ان کے اہل سے ہو یعنی ان کے اقارب سے ہو۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چھٹا سوال یہ تھا کہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنادیا جائے اور اس کے دو سبب تھے۔

(١) دین کے کاموں میں تعاون کر بہت قابل تعریف اور لائق تحسین منصب ہے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ یہ عظیم منصب ان کے بھائی کو حاصل ہو یا اس وجہ سے کہ دونوں بھائی ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ بہت تعاون کرتے تھے۔

(٢) دوسرا سبب یہ تھا کہ حضرت ہارون کی زبان حضرت موسیٰ سے بہت زیادہ فصیح تھی اور وہ اپنا موقف اور مافی الضمیر بہت آسانی کے ساتھ بیان کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے متعلق فرمایا تھا :

واخی ہرون ھوافصح منی لساناً فار سلہ معی ردا یصدقنی، انی اخاف آن یکذبون (القصص :34)

اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان والا ہے پس اسکو بھی میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ میری تصدیق کریں گے، مجھے خطرہ ہے کہ وہ سب میری تکذیب کریں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 30