أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاجۡعَلْ لِّىۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِىْ ۞

ترجمہ:

اور میرے لئے میرے اہل میں سے ایک وزیر بنا دے

وزیر کا معنی اور اس کے متعلق احادیث 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چوتھا سوال یہ کیا کہ میرے لئے ایک وزیر بنا دے۔ وزیر کا لفظ وزر سے ماخوذ ہے اور وزر کا معنی ہے بوجھ، وزیر کو وزیر اس لئے کہتے ہیں کہ وہ سلطان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، وزیر کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں : 

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی پھوپھی سے سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے جو شخص کسی منصب پر فائز ہوا پھر اللہ نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا تو اس کے لئے ایک نیک وزیر دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو وہ اس کو یاد دلا دیتا ہے اور اگر کو یاد ہو تو اس کی مدد کرتا ہے۔ (اس حدیث کی سند صحیح ہے) (سنن النسائی رقم الحدیث :4215

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کو بھی خلیفہ بناتا ہے اس کے دو راز دار ہوتے ہیں ایک راز دار اس کی نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس پر ابھارتا ہے اور دوسرا راز دار اس کی برائی کا حکم دیتا ہے اور اس پر ابھارتا ہے اور معصوم وہ ہے جس کو اللہ معصوم رکھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6611، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6192، مسند احمد رقم الحدیث 11362، عالم الکتب)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آسمان والوں میں سے بھی میرے دو وزیر ہیں اور زمین والوں میں سے بھی میرے دو وزیر ہیں، آسمان والوں میں سے میرے جو دو وزیر ہیں، وہ جبریل اور میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے جو میرے دو وزیر ہیں وہ ابوبکر اور عمر ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3680، المستدرک رقم الحدیث 3101 طبع جدید، المستدرک ج ٢ ص 264، طبع قدیم، حلیتہ الاولیاء ج ٨ ص 160 تاریخ بغداد ج ٣ ص 298 کنز العمال رقم الحدیث 32661)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ وزیر کی ضرورت تو بادشاہوں کو ہوتی ہے اور رسول جو اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کے احکام پہنچانے کا مکلف ہوتا ہے اس کو وزیر کی کیا ضرورت ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ نیکی اور خیر کے کاموں میں جو شخص اخلاص کے ساتھ تعاون کرے اس کی اللہ سے دعا کرنے میں بھی بڑی تاثیر ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے بھائی پر پورا اعتماد تھا کہ وہ نیکی اور خیر کے کاموں میں اور فرائض نبوت کی ادائیگی میں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 29