أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِى‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور میں نے آپ کو خاص اپنے لئے چن لیا

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت پر فائز کرنے کا احسان (٨)

طہ :41 میں فرمایا اور میں نے آپ کو خاص اپنے لئے چن لیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رسالت کے لئے چٹنے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا قرب عطا کیا، آپ کی عزت افزائی کی اور آپ کو شرف کلام عطا کیا اور یہ اوصاف اس لئے عطا کئے کہ آپ کو منصب رسالت پر فائز کرنا تھا۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایسے الطاف اور عنایات کئے جن کا تقاضا آپ کو منصب رسالت سے نوازنا تھا۔

(٣) میں نے آپ کو رسالت کے لئے اس وجہ سے چنا ہے کہ آپ میرے احکام کی اطاعت میں مشغول رہیں۔ میری الوہیت اور میری توحید پر دلائل قائم کریں اور آ پکی تمام حرکات اور سکنات صرف میرے لئے ہوں کسی اور کے لئے نہ ہوں۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 41