وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ(۱۰۵)

اور کتنی نشانیاں ہیں (ف۲۲۹) آسمانوں اور زمین میں کہ لوگ ان پر گزرتے ہیں (ف۲۳۰) اور ان سے بے خبر رہتے ہیں

(ف229)

خالِق اور اس کی توحید و صفات پر دلالت کرنے والی ، ان نشانیوں سے ہلاک شدہ اُمّتوں کے آثار مراد ہیں ۔(مدارک)

(ف230)

اور ان کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن تفکّر نہیں کرتے ، عبرت نہیں حاصل کرتے ۔

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ(۱۰۶)

اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے (ف۲۳۱)

(ف231)

جمہور مفسِّرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازِل ہوئی جو اللہ تعالٰی کی خالقیت و رزاقیت کا اقرار کرنے کے ساتھ بُت پرستی کر کے غیروں کو عبادت میں اس کا شریک کرتے تھے ۔

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۱۰۷)

کیا اس سے نڈر ہو بیٹھے کہ اللہ کا عذاب انہیں آ کر گھیر لے یا قیامت ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ ﱘ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ-وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۰۸)

تم فرماؤ (ف۲۳۲)یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں (ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے (ف۲۳۴) اور میں شریک کرنے والا نہیں

(ف232)

اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان مشرکین سے کہ توحیدِ الٰہی اور دینِ اسلام کی دعوت دینا ۔

(ف233)

ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب احسن طریق اور افضل ہدایت پر ہیں ، یہ علم کے معدن ، ایمان کے خزانے ، رحمٰن کے لشکر ہیں ۔ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا طریقہ اختیار کرنے والوں کو چاہئے کہ گزرے ہوؤں کا طریقہ اختیار کریں ۔ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں جن کے دل امّت میں سب سے زیادہ پاک ، علم میں سب سے عمیق ، تکلّف میں سب سے کم ، ایسے حضرات ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنی نبی علیہ الصلٰوۃ و السلام کی صحبت اور ان کے دین کی اشاعت کے لئے برگزیدہ کیا ۔

(ف234)

تمام عیوب و نقائص اور شرکا و اضداد و انداد سے ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰىؕ-اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْاؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۱۰۹)

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے (ف۲۳۵) جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے (ف۲۳۶) تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا (ف۲۳۷) اور بےشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں

(ف235)

نہ فرشتے ، نہ کسی عورت کو نبی بنایا گیا ۔ یہ اہلِ مکّہ کا جواب ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ نے فرشتوں کو کیوں نہ نبی بنا کر بھیجا ؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ کیا تعجب کی بات ہے ، پہلے ہی سے کبھی فرشتے نبی ہو کر نہ آئے ۔

(ف236)

حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اہلِ بادیہ اور جنّات اور عورتوں میں سے کبھی کوئی نبی نہیں کیا گیا ۔

(ف237)

انبیاء کے جھٹلائے سے کس طرح ہلاک کئے گئے ۔

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَایْــٴَـسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُؕ-وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ(۱۱۰)

یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی (ف۲۳۸) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے ان سے غلط کہا تھا (ف۲۳۹) اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا (ف۲۴۰) اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے پھیرا نہیں جاتا

(ف238)

یعنی لوگوں کو چاہئے کہ عذابِ الٰہی میں تاخیر ہونے اور عیش و آسائش کے دیر تک رہنے پر مغرور نہ ہو جائیں کیونکہ پہلی اُمّتوں کو بھی بہت مہلتیں دی جا چکی ہیں یہاں تک کہ جب ان کے عذابوں میں بہت تاخیر ہوئی اور بہ اسبابِ ظاہر رسولوں کو قوم پر دنیا میں ظاہر عذاب آنے کی امید نہ رہی ۔ (ابوالسعود)

(ف239)

یعنی قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انہیں جو عذاب کے وعدے دیئے تھے وہ پورے ہونے والے نہیں ۔ (مدارک وغیرہ)

(ف240)

اپنے بندوں میں سے یعنی اطاعت کرنے والے ایمانداروں کو بچا لیا ۔

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِؕ-مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠(۱۱۱)

بےشک ان کی خبروں سے (ف۲۴۱) عقل مندوں کی آنکھیں کُھلتی ہیں (ف۲۴۲) یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں (ف۲۴۳) لیکن اپنے سے اگلے کاموں کی (ف۲۴۴) تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت ورحمت

(ف241)

یعنی انبیاء کی اور ان کی قوموں کی ۔

(ف242)

جیسے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے واقعہ سے بڑے بڑے نتائج نکلتے ہیں اورمعلوم ہوتا ہے کہ صبر کا نتیجہ سلامت و کرامت ہے اور ایذا رسانی و بدخواہی کا انجام ندامت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والا کامیاب ہوتا ہے اور بندے کو سختیوں کے پیش آنے سے مایوس نہ ہونا چاہیئے ۔ رحمتِ الٰہی دست گیری کرے تو کسی کی بدخواہی کچھ نہیں کر سکتی ۔ اس کے بعد قرآنِ پاک کی نسبت ارشاد ہوتا ہے ۔

(ف243)

جس کو کسی انسان نے اپنی طرف سے بنا لیا ہو کیونکہ اس کا اعجاز اس کے مِنَ اللہ ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتا ہے ۔

(ف244)

توریت انجیل وغیرہ کُتبِ الٰہیہ کی ۔